نیوز رپورٹر
رمضان بازاروں میں چینی میں منافع کی شکایت پر معطل کیے جانے والے اسسٹنٹ کمشنر دیپالپورکی دوبارہ تعیناتی کی کوششیں تیز کر دیں۔
رانا اورنگزیب پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عملہ کے ساتھ مل کر فرنٹ مین کے ذریعے مہنگی چینی فروخت کروائی جس پر ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے ان کے خلاف انکوائری کی سفارش کی تھی ۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق اے سی دیپالپور کے خلاف ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ عثمان خالد کو انکوائری افسر لگایا گیا تھا مگر ذاتی اثر و رسوخ کی بنا پر انکوائر ی سابق اسسٹنٹ کمشنر کے حق میں کر کے دوبارہ ان کی دیپالپور میں تعیناتی کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں کیونکہ اسسٹنٹ کمشنر کی ذاتی دلچسپی اور اثر و رسوخ کی وجہ سے دیپالپور کی سیٹ خالی رکھی گئی ہے تاکہ ان کی دوبارہ تعیناتی کی جائے ۔
رمضان المبارک میں جہاں رمضان بازاروں میں اشیائے خوردنوش کی قیمتوں اور معیار کو چیک کرنے کےلئے اسسٹنٹ کمشنر کو بھی ذمہ داریاں دی گئی ہیں وہاں پنجاب کی تحصیل دیپالپور میں اسسٹنٹ کمشنر کی سیٹ2ہفتوں سے خالی پڑی ہے مگر حکومت تعیناتی نہیں کر سکے۔
ذرائع کے مزید بتایا ہے کہ پی ایم ایس افسر رانا اورنگزیب کو ایک سنئیر افسر کی آشیر باد حاصل ہے جس کی بنا پر انکوائری بھی ان کے حق میں کروا کر اب دوبارہ دیپالپور میں تعینات کروانے کی کوششیں جاری ہیں دوسری جانب قانون کے مطابق کسی افسر کے خلاف انکوائری کا وقت کم از کم 60دن ہوتا ہے مگر سابق اسسٹنٹ کمشنر دیپالپور کے خلاف انکوائری دو ہفتوں میں ہی مکمل کر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو بھجوا دی گئی ہے۔ تاحال اس انکوائری پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا البتہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب پر چیف منسٹر آفس میں تعینات پی سی ایس آفیسر جو نون لیگی دورِ حکومت میں بھی شہباز شریف کے منظورِ نظر رہ چکے ہیں ان کے مبینہ دباؤ کے پیشِ نظر اس انکوائری کا فیصلہ سابقہ اسسٹنٹ کمشنر دیپالپور کے حق میں ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
سول سیکریٹیریٹ کے ایک سنئیر افسر نے بتایا کہ انکوائری کا ٹائم فریم موجود ہے مگر اتنی جلدی انکوائری مکمل کرنے سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ مذکورہ پی ایم ایس افسرکو پہلے بھی بوریوالہ سے سیکورٹی گارڈ پر تشدد کرنے اور جعلی پرچہ درج کروانے پر ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ اینٹی کرپشن میں درج ایف آئی آر نمبری ۵/۲۰۲۱ ابھی تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچی اور مذکورہ افسر کو محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی پھر اسی تحصیل میں تعینات کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔حالانکہ مزکورہ افسراگر انکوائری سے بری بھی ہو جاتا ہے تو اسے کسی اور تحصیل میں بھی تعیناتی دی جا سکتی ہے، دوبارہ اسی تحصیل میں تعیناتی سے لگتا ہے دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔









