میاں تنویر سرور۔
تفصیلات کے مطابق مقامی شہری کی طرف سے ڈائریکٹر ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ لاہور ریجن اے محمد مشتاق فریدی کے خلاف درخواست دی گئی ہے جس میں مختلف نوعیت کے کرپشن، رشوت اور بھتہ خوری جیسے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد مشتاق فریدی ماتحت ریجن کے تمام ای ٹی اوز انسپکٹرز، کلرکوں حتی کہ کانسٹیبلز سے بھی ماہانہ بھتہ وصولی کرتا ہے اور اس کے لیے ماتحت انسپکٹر جاوید اور عزیر ریکوری کرتے ہیں۔
دوسری طرف ڈائریکٹر کی بھتہ ڈیمانڈز کو پورا کرنے کے لیے نئے ریکروٹ ہونے والے نابینہ ای ٹی او شہزاد رشوت لینے پر مجبور ہیں اور ہر ماہ پروفیشنل ٹیکس کے دونوں زونز کے ای ٹی او کی حیثیت سے ایک لاکھ 20ہزار روپے ڈائریکٹر کو ادا کرتے ہیں جبکہ ان کے انسپکٹر ہر ماہ فی کس10ہزار روپے الگ سے ڈائریکٹر مذکور کو ادا کرتے ہیں یہی صورتحال دیگر زونز کے ای ٹی اوز اورانسپکٹرز کی ہے۔ماہوار بھتے کے علاوہ ڈائریکٹر نے جون کے مہینے میں پروفیشنل ٹیکس برانچ سے اپنے گھر کے لیے ڈیڑھ ٹن کا ائیرکنڈیشنر اور بعدازاں دو LEDپنکھے بھی لیئے۔جو کہ مزنگ چونگی سے خریدے گیئے۔
درخواست میں یہ بھی الزام ہے کہ ڈائریکٹر مذکور نے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دوسرے ریجنز کی سنیارٹی رکھنے والے ملازمین کو معطل،بحال اور پرموٹ بھی کرتے ہیں۔
درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈائریکٹر محمد مشتاق فریدی نے ڈائریکٹر ریجن سی شاہد علی گیلانی کی 20اگست2025سے 31اگست2025تک بیرون ملک رخصت کے دوران ریجن سی کا لک آفٹر چارج سنبھالتے ہی موٹر برانچ علی کمپلیکس کی انسپکٹر (OPS)قرت العین سے مبینہ طورپر دو لاکھ روپے رشوت لیکر اسے AOUکی اتھارٹی دی اور شاہد علی گیلانی کی واپسی سے پہلے ہی اس سے اتھارٹی وڈرا کرلی۔









