چاند 240

راتوں کو تاریک آسمان میں مدھم روشنی بکھیرنے والا چاندنے سائنسدانوں کو چکرادیا

چاند کے بارے میں بہت کچھ ہے جو سائنسدانوں کے ذہنوں کو چکرانے کے لیے کافی ہے، جن میں سے ایک اسے زنگ لگنا ہے۔

جی ہاں چاند کو زنگ لگ رہا ہے اور یہ جان کر سائنسدانوں کا ردعمل بھی آپ جیسا ہی تھا، کیونکہ ایسا بظاہر ممکن نہیں۔اس کی وجہ بھی سادہ ہے جب چاند پر آکسیجن ہی نہیں تو زنگ لگ ہی نہیں سکتا

اگر آپ کو علم نہ ہو کہ زنگ کیسے لگتا ہے تو جان لیں کہ نمی کے ساتھ دوسرا اہم ترین عنصر آکسیجن ہے، مگر نئے شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ چاند پر یہ حیرت انگیز عمل ہوا ہے۔

چاند کی سطح پر پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف تو ہوا ہے مگر آکسیجن وہاں موجود نہیں۔

یہی وجہ ہے جب چاند کے حوالے سے جمع ڈیٹا کا تجزیہ ناسا اور ہوائی انسٹیٹوٹ آف جیوفزکس اینڈ پلانیٹولوجی نے کیا تو وہ زنگ کے آثار دریافت کرکے دنگ رہ گئے۔

چاند پر آئرن والی متعدد چٹانیں ہیں مگر زنگ تو اسی وقت لگتا ہے جب لوہا آکسیجن اور پانی یا نمی کی زد پر ہو۔

چاند پر نہ صرف ہوا کا نام نام و نشان نہیں بلکہ وہاں سورج سے ہائیڈروجن کا بہاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، کسی چیز پر زنگ اس وقت لگتا ہے جب آکسیجن لوہے سے الیکٹرونز کو نکال دیتا ہے، جبکہ ہائیڈروجن سے یہ عمل الٹا ہوجاتا ہے یعنی الیکٹرونز کا اضافہ ہوجاتا ہے، جس سے زنگ کا لگنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد اور ہوائی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی شوائی لی نے کہا ‘یہ چکرا دینے والا معاملہ تھا، کیونکہ چاند کا ماحول زنگ کے لیے موزوں نہیں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں