واشنگٹن( رپورٹنگ آن لائن)امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ارکان نے جوہری سمجھوتے کے معاملے اور ایرانی پاسداران انقلاب اور حوثی ملیشیا کے ناموں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے حوالے سے جو بائیڈن کی انتظامیہ پر دبائو کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کانگریس میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن اور ریپبلکن سینیٹر بل ہیگرٹی نے کہا کہ بائیڈن نے ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا جس کے بعد حوثی دہشت گردوں نے امریکا کے حلیفوں پر حملے جاری رکھے۔
بائیڈن اب پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردی کی فہرست سے خارج کرنا چاہتے ہیں تا کہ ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ طے پا سکے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو اندیشہ ہے کہ ایران کے ساتھ آئندہ ہونے والا نیا جوہری معاہدہ 2015 میں سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے طے پانے والے سمجھوتے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گا۔ اس لیے کہ امریکا وقت اور نفوذ دونوں چیزیں کھو چکا ہے۔









