لاہور( رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے آگ لگنے کے واقعات روکنے کے لئے اقدامات بارے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے محکمہ داخلہ ،،ریسکیو ،ایل ڈی اے اور آئی جی پنجاب سمیت تمام فریقین سے 14اپریل تک جواب طلب کر لیا ۔ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی ۔
دوران سماعت وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹنٹ اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر اورپنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر سیال پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے عدالتی حکم کے باوجود جواب جمع نہ کرانے پر مختلف محکموں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں لیسکو، این ڈی ایم اے ،محکمہ صحت سمیت پندرہ فریق ہیں ۔انتہائی حساس معاملہ ہے لیکن کسی ایک بھی محکمے نے جواب نہیں کرایا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ دو ہفتے پہلے نوٹس ہوئے کیا آپ لوگ سو رہے تھے،عدالتوں کے ساتھ ایسا رویہ اپنانا چھوڑ دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آگ لگنے کے واقعات سے روکنے کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں،اگر آپ کے محکموں نے کوئی رولز بنائیں ہیں کوئی اقدامات کیے ہیں تو بتائیں،آپ سب کو دس روز کا وقت دے رہے ہیں اپنا اپنا جواب جمع کروائیں۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب نہ آیا تو تمام محکموں کے سربراہان کو ذاتی حیثیت میں بلائیں گے،جواب جمع کرانے میں کتنا وقت لگتا ہے ،محکمے سے ہدایت لینی ہے اور دستاویزات تیار کرکہ جواب جمع کرانا ہے ۔عدالت نے سماعت 14اپریل تک ملتوی کر دی ۔








