چین 47

دنیا چین کو دوبارہ ایک الگ زاویے سے دیکھ رہی ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) حال ہی میں، مغربی رہنماؤں کے چین کے دورے کے لیے قطار میں کھڑے ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی گرما گرم مباحثے، بی بی سی کی رپورٹر کے چین پر معروضی تبصرے، اور غیر ملکی انٹرنیٹ صارفین کی “چینی طرز زندگی اپنانے ” کی بڑھتی ہوئی خبریں, اس کے علاوہ چین کی جی ڈی پی کا 2025 میں 140 ٹریلین یوان سے تجاوز کرنا ،یہ تمام حقائق اس سادہ مگر گہری سچائی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محض نظریاتی تصادم بالآخر ایک فریب ثابت ہوتا ہے، اور خلوص، استحکام اور مہربانی کی خصوصیات ایک فرد اور حتیٰ کہ ملک کے لیے سب سے زیادہ جذبات کو چھو لینے والا احساس ہیں، اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ کئی سالوں تک غلط فہمی کے بعد دنیا چین کو دوبارہ ایک الگ زاویے سے دیکھ رہی ہے۔

سب سے پہلے،چین کی معیشت کی مضبوطی دنیا کے اتار چڑھاؤ والے رجحان کے لیے بہت قیمتی یقین دہانی فراہم کرتی ہے۔ 2025 میں، چین کی جی ڈی پی 140.19 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی، جو سال بہ سال 5 فیصد اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار عالمی معاشی ترقی میں چین کے مرکزی محرک کردار کو اجاگر کرتے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین طویل المدتی ترقی کے لیے سنجیدہ اور پختہ عزم رکھتا ہے۔ یہ سادہ اور محنتی ترقیاتی رویہ بعض ممالک کی اس روایت سے بالکل مختلف ہے جو اکثر نظریاتی حدیں کھینچتے ہیں اور گروہ بندی کے تصادم کو ہوا دیتے ہیں۔ جب کھوکھلے نعرے روزگار اور ترقی جیسے حقیقی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو چین کی عملی کامیابیاں قدرتی طور پر مشکل اوقات میں دنیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد سہارا بن جاتی ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے چین کے دورے کے بعد، بی بی سی کی خاتون رپورٹر لورا بک کے تبصروں نے کافی توجہ حاصل کی۔ چین میں مغربی مین اسٹریم میڈیا کی رپورٹر کے طور پر، انہوں نے صاف گوئی اور معروضیت کے ساتھ اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ چین مغربی طرز کی گروہ بندی کی سیاست میں شامل نہیں ہوتا، نہ ہی دوسرے ممالک کو اپنی وفاداری دکھانے یا اس کے نظریات کو اپنانے کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ باہمی فائدے پر مبنی عملی تعاون کو ترجیح دیتا ہے ۔ ایک اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ لورا بک نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر چین کے محفوظ اور رہنے کے قابل معاشرے کو سراہتے ہوئے کہا: “میں صبح تین بجے بھی باہر دوڑ لگا سکتی ہوں، اپنا پیسہ کئی گھنٹوں کے لیے کافی شاپ میں چھوڑ سکتی ہوں اور وہ محفوظ رہتا ہے۔ لوگ دوستانہ ہیں اور کھانا لاجواب ہے” ۔انہوں نے چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو بھی تسلیم کیا۔ اس قسم کا سچا اظہار جو کسی نظریاتی فلٹر سے باہر ہے، طویل عرصے سے جاری کچھ مغربی میڈیا کے جھوٹے بیانیے کے بالکل برعکس ہے – ان کی جان بوجھ کر مبالغہ آمیز “نظریاتی مخالفت” بنیادی طور پر اپنی بالادستی کو قائم رکھنے کا ایک آلہ ہے، جبکہ چین کی جانب سے “داخلی امور میں عدم مداخلت اور باہمی فائدہ مند نتائج” بین الاقوامی تبادلوں کا صحیح طریقہ ہے۔

غیر ملکی انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے حالیہ رجحان ” چینی طرز زندگی اپنانا” دراصل عوامی سطح پر چینی اقدار کی فطری قبولیت کا مظہر ہے۔ گرم پانی پینے اور ٹک ٹاک پر چینی روایتی ورزش ” باڈوان جن” کی مشق کرنے سمیت چینی لوگوں کی صحت مند زندگی کے طریقہ کار کی نقل کرنے سے لے کر “چینی زندگی کی فہرست” کا خلاصہ کرنے تک، غیر ملکی انٹرنیٹ صارفین نے چینی طرز زندگی کو سادہ انداز میں اپنایا ہے، اور تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس آہستہ آہستہ “چینی سوچ” آ رہی ہے۔ اس تبدیلی کے پس منظر میں ایک مستحکم، محفوظ اور متوازن زندگی کی خواہش کارفرما ہے ۔ وہ اب نظریاتی لیبلز کے تحت نہیں سوچتے، بلکہ چین کی سکیورٹی ، نظم و ضبط اور مخصوص زندگی کے مناظر میں چینی لوگوں کے خلوص اور دوستانہ رویے کو محسوس کرتے ہیں۔ اس قسم کی تسلیم کا نظریے سے کوئی تعلق نہیں، جو صرف بہتر زندگی کی تلاش سے جنم لیتا ہے – انسان زندگی میں استحکام اور امن کے خواہاں ہیں اور ممالک اپنے باہمی تعلقات میں خلوص اور باہمی مفاد کی آرزو رکھتے ہیں، یہ انسانی اور بین الاقوامی سرحدوں سے بالاتر ایک مشترکہ خواہش ہے۔

ماضی پر نظر ڈالیں تو چین طویل عرصے تک مغربی نظریاتی بیانیوں کی جانب سے غلط فہمی اور بدنامی کا شکار رہا ہے۔ مغربی ممالک گروہ بندی میں مصروف رہے، جس کے نتیجے میں داخلی تقسیم، عوامی زندگی کی تنزلی اور نظم و نسق میں خلل واقع ہوا، جب کہ چین نے مستقل طور پر مستحکم ترقی برقرار رکھی، سچائی اور دوستانہ طرز عمل پر قائم رہا، سائنسی و تکنیکی ترقی سے عوامی زندگی کو بہتر بنایا اور باہمی تعاون سے دنیا کو فائدہ پہنچایا۔ اب لوگوں کو آخرکار یہ نظر آنے لگا ہے کہ اس “نظریاتی جدوجہد” کی حقیقی معنویت کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ درحقیقت صرف استحکام، سچائی اور نیکی ہی ایک ملک کا سب سے قابل قدر وصف ہے اور یہی دنیا سے عزت حاصل کرنے کی بنیاد بھی ہے۔ چین کے ”انسانیت کے ہم نصیب معاشرے” کے تصور نے مختلف تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون پر زور دیا ہے ۔ چین دوسرے ممالک سے اپنی ترقی کا راستہ نقل کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ ہر ملک کے اپنے قومی حالات کے مطابق مناسب ترقیاتی ماڈل کا انتخاب کرنے کا احترام کرتا ہے۔ آج کے غیر یقینی بین الاقوامی ماحول میں یہ متوازن اور عملی رویہ زیادہ سچا اور قابل قدر محسوس ہوتا ہے۔

چین کی دوبارہ دریافت محض اتفاقی نہیں بلکہ وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ غیر یقینی صورتحال سے بھری دنیا میں، چین نہ صرف ایک ترقیاتی ماڈل بلکہ سوچنے کا ایک طریقہ بھی پیش کرتا ہے: نظریے پر عملیت پسندی کو ترجیح دینا، عوام کی فلاح کو مجرد خیالات پر فوقیت دینا، اور طویل مدتی استحکام کو قلیل مدتی مفادات پر فوقیت دینا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چینی ماڈل کسی نقص سے بالاتر ہے یا تمام ممالک کے لیے موزوں ہے۔ چین کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ قومی حکمرانی اور بین الاقوامی تعلقات میں بنیادی اقدار یعنی استحکام، سچائی، عملیت پسندی، اور دل کی گہرائیوں سے نیکی کی طرف واپس لوٹنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں