انتونیو گوتریس 6

دنیا جنگل راج میں بدل رہی ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

جنیوا(رپورٹنگ آن لائن)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیریش نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات کو جنگل کے قانون سے تشبیہ دیتے ہوئے اس رجحان کی مذمت کی ہے، جوپوری دنیا میں انسانی حقوق پر ایک بڑے حملے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔

انہوں نے گزشتہ روز جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ اس حملے کی قیادت خاص طور پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کر رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کے خلاف بھی متنبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نہ تو خفیہ طور پر کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اچانک، بلکہ یہ دن دیہاڑے ہو رہا ہے اور اکثر طاقتور ترین ریاستوں کی ہدایت پر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی جان بوجھ کر اور تزویراتی طور پر بلکہ کبھی کبھی تو فخر کے ساتھ قربانی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کسی ملک یا رہنما کا نام لیے بغیراس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قانون کی حکمرانی طاقتور کے قانون کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جب انسانی حقوق زوال کا شکار ہوتے ہیں تو باقی سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں اجتماعی مصائب کو قبول کر لیا گیا ہے، جہاں انسانوں کے ساتھ لین دین کی کرنسی کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور جہاں بین الاقوامی قانون کو محض ایک پریشانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، تیزی سے ایسے طریقوں سے استعمال ہو رہی ہے جو جبر میں اضافہ کر تے ہیں، عدم مساوات کو گہرا کرتے ہیں اور پسماندہ طبقات کو آن لائن اور آف لائن امتیازی سلوک کی نئی شکلوں سے دوچار کرتے ہیں۔ انہوں نے شہری حقوق کے گلا گھونٹنے والی آہنی گرفت پر شدید تنقید کی اور صحافیوں و انسانی حقوق کے کارکنوں کی قید، غیر سرکاری اداروں کی بندش، خواتین کے حقوق میں کمی اور معذور افراد کو الگ تھلگ کرنے کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریتیں زوال پذیر ہیں اور تارکین وطن کے انسانی حقوق و وقار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، گرفتار کیا جا رہا ہے اور بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کیسیکرٹری جنرل نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دو ریاستی حل کو اب کھلے عام ناقابل عمل قرار دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں