کراچی (سینیٹررضا ربانی)سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹررضا ربانی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری ادارے سیاسی تقسیم، تیز رفتار ٹیکنالوجی، ماحولیاتی دبا، پاپولزم اور عوامی عدم اعتماد جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ دنیا بھر میں جمہوری ادارے سیاسی تقسیم، تیز رفتار ٹیکنالوجی، ماحولیاتی دبا، پاپولزم اور عوامی عدم اعتماد جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔سندھ اسمبلی اور کراچی کی تاریخی و سیاسی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شہر ہمیشہ سیاسی شعور اور جمہوری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، اس لیے ایسی کانفرنس کی میزبانی موزوں ہے۔انہوں نے موجودہ عالمی رجحان کو پوسٹ آئیڈیالوجی سیاست قرار دیا، جہاں نظریات کے بجائے ٹیکنوکریٹک طرزِ حکمرانی کو فوقیت دی جا رہی ہے، جس سے عوام خود کو سیاسی عمل سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔اس خلا کے نتیجے میں پاپولزم ابھرتا ہے جو جذباتی سیاست کو فروغ دیتا ہے اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کو ایک نیا بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے سابق سینیٹ چیئرمین نے کہا کہ مشینیں انسانی سیاسی دانش، تجربے اور اخلاقی فیصلوں کا متبادل نہیں بن سکتیں۔انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کا مرکز عوام ہونا چاہئیں، اور یہ تبھی ممکن ہے جب پارلیمان عوامی اعتماد کی مضبوط امین بنیں۔پارلیمان کو مکالمے، مفاہمت اور تنازعات کے پرامن حل کا مثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پارلیمان نے امن معاہدوں، آئینی اصلاحات اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔پاکستان کے تناظر میں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمانی بالادستی کی بحالی ہی امن، استحکام اور جمہوری تسلسل کا پائیدار راستہ رہی ہے۔
انہوں نے سینیٹ آف پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اس نے صوبائی حقوق، وفاقی توازن اور چھوٹے صوبوں کے تحفظ میں مصالحتی کردار ادا کیا۔18ویں آئینی ترمیم اور 7ویں این ایف سی ایوارڈ کو پارلیمانی اتفاقِ رائے کی بہترین مثالیں قرار دیا، جنہوں نے وفاق کو مضبوط اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔رضا ربانی نے خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کی شمولیت کو جمہوری امن کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔اختتام پر رضا ربانی نے کہا کہ مفاہمت ایک مسلسل جمہوری عمل ہے، جو مکالمے، آئین، شمولیت اور پارلیمانی اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے، اور پاکستان کا تجربہ خطے کے لیے قابلِ تقلید ہے۔









