لاہور(رپورٹنگ آن لائن )لاہور ہائیکورٹ میں درختوں کی کٹائی کے کیس میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی اور رجسٹرار ڈاکٹر احمد عدالت میں پیش ہو گئے اور توہین عدالت کی کارروائی میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی ۔ فاضل عدالت نے درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ درخت کاٹنا مجرمانہ عمل ہے،یہ قابل قبول نہیں کہ یونیورسٹی میں درخت کاٹے جائیں اور انتظامیہ کو علم نہ ہو۔عدالت نے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی میں درختوں کے تحفظ کے لیے ایس او پیز تیار کیے جائیں اور مزید درخت بھی لگائے جائیں۔ وائس چانسلر نے موقف اختیار کیا کہ 500 درخت لگائے جا چکے ہیں اور مزید 500 لگائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ درخت کاٹنے کے ذمہ دار افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے پی ایچ اے کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو ڈی جی پی ایچ اے کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نئی ٹرانسپلانٹ پالیسی بننے تک درختوں کی منتقلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوران سماعت شیخ زید اسلامک سینٹر کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین کون ہے جس پر بتایا گیا کہ چیئرمین وائس چانسلر ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس تناظر میں انتظامیہ کی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے وائس چانسلر کو آئندہ پیشی سے استثنیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑی تو آپ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ سے متعلق حکم امتناعی میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی گئی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی۔









