ویلنگٹن(رپورٹنگ آن لائن)نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے آسٹریلیا پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کی ہے کہ اس نے ایک خاتون کی داعش سے مبینہ وابستگی کی بنیاد پر ان کی شہریت ختم کردی۔ آسٹریلیا نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسینڈا آرڈرن نے منگل کے روز آسٹریلیا کی حکومت پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کہ اس نے یکطرفہ طور کارروائی کرتے ہوئے اس خاتون کی شہریت ختم کردی جن کو داعش کا رکن ہونے کے شبے میں ترکی میں گرفتار کیا گیا ۔ مذکورہ خاتون کواس سے قبل نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا دونوں ملکوں کی شہریت حاصل تھی۔ وزیر اعظم جیسینڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا نے مذکورہ خاتون کی شہریت ختم کر کے اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کی کوشش کی ہے لیکن مذکورہ خاتون کو نیوزی لینڈ کے بجائے آسٹریلیا واپس بھیجنا چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ یہ بات غلط ہے کہ اس معاملے میں اس خاتون سے متعلق صورت حال کی تمام تر ذمہ داری نیوزی لینڈ پر ڈالی جائے جو چھ برس کی عمر کے بعد سے ہی نیوزی لینڈ میں نہیں رہ رہی تھیں بلکہ آسٹریلیا میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ مقیم تھیں.
اور آسٹریلیا کے پاسپورٹ پر ہی وہ شام گئی تھیں۔ کوئی بھی صحیح الدماغ شخص انہیں آسٹریلیا کا ہی شہری کہے گا اور میرا بھی یہی خیال ہے۔جیسینڈا نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنی تشویش سے آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کو آگاہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے دوہری شہریت کے معاملات میں دونوں ملکوں کو مزید تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔موصل کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے اس فوجی آپریشن کا آغاز انیس فروری کو کیا گیا تھا لیکن خراب موسم اور داعش کی طرف سے مزاحمت کے بعد یہ سست روی کا شکار ہو گیا۔ اتوار کے روز سے عراقی فورسز اس حصے پر قبضے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے اس موقف کے جواب میں آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن نے کہا کہ مذکورہ خاتون کی شہریت خود بخود ختم ہوگئی اور ملک کی سلامتی کے مفاد کا خیال رکھنا ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہماری پارلیمان نے اس بارے میں جو قانون منظور کیا ہے اس کی رو سے اس طرح کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی شہریت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں محترمہ آرڈرن سے بات چیت کریں گے۔ ترکی میں حکام نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کے تین شہریوں نے پیر کوشام کے راستے غیر قانونی طور پر ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی، جن میں سے ایک شہری کے شدت پسند اسلامی تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے بھی روابط ہیں۔ترکی کی وزارت دفاع نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہاکہ نیوزی لینڈ کے تین شہریوں کو غیر قانونی طور ہمارے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے سرحدی محافظوں نے پکڑا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جن افراد کو پکڑا گیا ہے اس میں سے ایک خاتون، جن کا نام ایس اے ہے، وہ داعش سے وابستہ دہشت گردی کے ایک کیس میں مطلوب بھی ہیں۔داعش سے وابستہ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے انہیں ان کے ملکوں کو دوبارہ واپس بھیجنا مغربی ملکوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داعش سے منسلک ہزاروں سابق ارکان شام اور عراق کی جیلوں یا پھر پناہ گزین کیمپوں میں اب بھی مقیم ہیں۔









