محمد جاوید قصوری 23

دارالحکومت میں بارود سے بھرے ڈرون گرانا باعث اطمینان ہے ‘ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے دارالحکومت میں ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پرامن شہری علاقوں کو نشانہ بنانا کھلی جارحیت اور قابل مذمت عمل ہے اس قسم کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں تاہم قوم اور سکیورٹی ادارے ان سازشوں کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں،پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کوہاٹ کے حساس اور گنجان آباد شہری علاقوں میں دشمن قوتوں کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ دشمن عناصر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں لیکن قوم متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کرے گی۔محمد جاوید قصوری نے لکی مروت میں پولیس موبائل وین کے قریب ہونے والے دھماکے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اس سانحے میں شہید ہونے والے ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ بہادر سپوت پوری قوم کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں قومی اتحاد اور یکجہتی پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت خطے کے امن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوش مندی سے کام لے اور اسلام دشمن قوتوں کا آلہ کار بننے سے گریز کرے۔محمد جاوید قصوری نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کی سوچ سے کہیں زیادہ بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پورا مڈل ایسٹ بدامنی اور کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے ۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں جنگی جنون کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں