اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر اطلاعات برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ صوبہ اس وقت ایسے سیاسی سراب کی لپیٹ میں ہے جہاں تبدیلی کے نام پر صرف تباہی اور اشتہارات کے پیچھے بدترین کرپشن چھپی ہے، 13 سالہ اقتدار کے دعویداروں نے صوبے کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہسپتالوں میں بیڈ نہیں، بیوروکریسی میں میرٹ نہیں اور عوام کے لیے انصاف نہیں،ریاست کے وسائل کو ریاست ہی کے خلاف استعمال کرنے کا ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس نے پورے صوبائی نظام کو یرغمال بنا لیا ہے۔
پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے خیبر پختونخوا اس وقت ملک کا وہ صوبہ ہے جہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور گورننس بالکل ختم ہو چکی ہے، یہاں کرپشن عروج پر ہے لیکن حکمران جماعت کے لوگ اسے کرپشن نہیں سمجھتے، جرائم، سمگلنگ اور بدانتظامی کو بھی جرم تسلیم نہیں کیا جا رہا، ان تمام معاملات کو سیاسی رنگ دے کر قیدی نمبر 804 کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ اصل سوال ان لوگوں سے ہونا چاہیے جو 13 سال سے اقتدار میں ہیں، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں کون سی نئی یونیورسٹی یا ہسپتال بنایا، وہ پرانے ہسپتالوں کا نام لیتے ہیں جو ان کی پیدائش سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ پی ایم ایس افسران اب وفاق یا پنجاب منتقل ہونے کی دہائیاں دے رہے ہیں کیونکہ یہاں پوسٹنگ کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے، جو جتنا زیادہ پیسہ دیتا ہے اسے اتنی ہی پرکشش سیٹ ملتی ہے، دیانتدار افسران کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں، جھوٹ کا ایسا بازار گرم ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے غلط کاموں کو بھی شاہکار بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر 11 سال سے بزرگوں کے کارڈز کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں آج تک ایک کارڈ بھی جاری نہیں ہو سکا۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اطلاعات برائے خیبر پختونخوا نے کہا کہ صحت کارڈ جسے یہ اپنا سب سے بڑا کارنامہ کہتے ہیں درحقیقت کرپشن کی بڑی تجوری بن چکا ہے، عوام کو صرف 10 سے 15 فیصد فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ 90 فیصد پیسہ حکمران ٹولہ اور اشرافیہ ہضم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں محض پیسے بٹورنے کے لیے غیر ضروری آپریشن کیے جا رہے ہیں اور چائنا کی سستی مشینری کو یورپی ریٹس پر دکھا کر قومی خزانے کو لوٹا جا رہا ہے، سرکاری ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ غریب مریض آئی سی یو بیڈ کے انتظار میں سڑکوں پر دم توڑ دیتے ہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ وہ لوگ جن کی 2013 میں کوئی مالی حیثیت نہیں تھی آج ارب پتی بن چکے ہیں، جن کے پاس پہلے پانچ ہزار روپے نہیں تھے اب وہ 22 ارب روپے کے اثاثے سینہ تان کر دکھاتے ہیں، پشاور کے بڑے ہوٹل ان سابق وزرا نے خرید لیے ہیں جن کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سارا پیسہ عوام کا ہے جو اب سوشل میڈیا پر بوٹس کے ذریعے اپنی جھوٹی مقبولیت چمکانے پر خرچ کیا جا رہا ہے، جونیئر افسران کروڑوں کی رشوت دے کر اہم عہدوں پر فائز ہیں جبکہ قابل لوگ سائیڈ لائن کر دیے گئے ہیں۔









