قیصر شیخ 149

خوردنی تیل کیلئے نئی مخصوص جیٹی کے قیام کی تجویز قابل عمل ہے، قیصر شیخ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر شیخ نے کہا ہے کہ خوردنی تیل کیلئے نئی مخصوص جیٹی کے قیام کی تجویز پر عملدرآمد ممکن ہے، اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز مشاورت سے فیصلہ کریں۔

پی این ایس سی کے جہازوں کے ذریعے خوردنی تیل کی درآمد سے قیمتی زرمبادلہ بچے گا۔ آئندہ بجٹ میں فاٹا پاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے دورے کے موقع پر کیا۔

تقریب میں پی وی ایم اے کے چیئرمین شیخ عمر ریحان، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) کے چیئرمین معظم الیاس، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے چیئرمین سلطان چاؤلہ، پام آئل سپلائر ایسوسی ایشن کے صدر نوید گیلانی، سابق چیئرمین امجد رشید، مسعود احمد پرویز، ناصر سلیم، امین دادا، باسط اکرام، احمد غلام حسین، شکیل اشفاق سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پی وی ایم اے، پورٹ قاسم، پی این ایس سی اور وزارت بحر ی امور کے نمائندوں کی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جو مشترکہ مسائل کے حل کیلئے تجاویز مرتب کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ میری ٹائم کا شعبہ ہی مستقبل ہےَ۔ MERSK لائنز نے پورٹس اینڈ شپنگ کے شعبے میں انفرااسٹرکچر کی بہتری کیلئے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

قیصر شیخ نے مزید کہا کہ اندازہ ہے کہ پورٹ پر ڈیمریجز سے انڈسٹری کو بے حد نقصان ہو رہا ہوگا، حکومت اور وزارت میری ٹائم وناسپتی مینوفیکچررز کے مسائل حل کرنے کیلئے پر عزم ہے اور اس سلسلے میں پورٹ قاسم اتھارٹی اور پی این ایس سی کے چیئرمین موجود ہیں جن کی مشاورت سے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق بھی بزنس کمیونٹی سے ہے جبکہ پی این ایس سی کے چیئرمین بھی اسی برادری کی نمائندگی کرتے ہیں ایسے میں صنعتکارو ں کے مسائل باآسانی حل کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی این ایس سی کے پاس 12 جہاز موجود ہیں اور مزید 4 جہاز حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ تاہم انڈسٹری کی مشاورت سے دیگر حل بھی تلاش کئے جاسکتے ہیں، اگر جہاز چارٹر کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو جہاز چارٹر کئے جائیں گے۔ اسی طرح اگر جیٹی بڑھانے سے معاملات بہتر ہوتے ہیں تو جیٹی کیلئے حکومت سہولیات فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی وی ایم اے کے ممبران کے یوٹیلیٹی اسٹورز میں پھنسی رقم کے اجراء کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں گے۔

قبل ازیں پی وی ایم اے کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے کہا کہ وناسپتی مینوفیکچررز ملک میں ریونیو اور ٹیکس اداکرنے والی دوسری بڑی صنعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 800 ارب روپے ٹیکس دینے والا شعبہ ہے جبکہ خوردنی تیل کی درآمد 4.5 ارب ڈالر سالانہ ہے، جبکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پام آئل درآمد کیا جاتا ہے، تاہم اس وقت شپمنٹس کاسٹ اینڈ فریٹ کی بنیاد پر آرہی ہیں، تاخیر سے ڈیمریجز اور دیگر جرمانے لگتے ہیں۔شیخ عمر ریحان نے کہا کہ پی وی ایم اے کے ممبران کے مسائل حل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ مشترکہ مشاورت سے مسائل حل کریں۔

تاہم خواہش ہے کہ قومی ادارے پی این ایس سی کے ذریعے پام آئل درآمد کرنا چاہتے ہیں، ملک میں اس وقت خوردنی تیل کی طلب 35 لاکھ ٹن سالانہ ہے جو آئندہ 5 سالوں میں 50 لاکھ ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شپنگ کی مد میں 40 سے 50 ملین ڈالر چارجز ادا کر رہے ہیں۔ تاہم شپ شارٹیج کے بہانے 100 ٹن مال چوری ہوجاتا ہے جس کا کوئی ذمہ دار نہیں۔ چیئرمین پی وی ایم اے نے کہا کہ کراچی گیٹ وے ٹرمینل پر 12 سے 13 برتھیں خالی ہیں جبکہ پورٹ قاسم پر ایک ہی جیٹی سے خوردنی تیل کی آف لوڈنگ کا کام انجام دیاجاتا ہے جو تاخیر کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل، گھی اور کوکنگ آئل اشیاء ضروریہ میں شامل ہیں اور مسلسل مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورٹ پر بھی برتھوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں بڑھنے والی طلب کو پورا کیا جاسکے۔ کراچی پورٹ، کے جی ٹی ایل اور پورٹ قاسم اتھارٹی پر ایم ڈبلیو ون جیٹی کو پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر دی جائیں۔ شیخ عمر ریحان نے چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی دلچسپی سے گزشتہ دنوں کلیئرنگ کا کام آسان ہوا۔

چیئرمین پی وی ایم اے نے مزید کہا کہ پورٹ قاسم انڈسٹریل زون میں 70 فیصد زمین خالی ہے،مقررہ مدت میں انڈسٹری نہ لگانے والوں سے زمین واپس لی جائے اور جو انڈسٹری لگانے میں سنجیدہ ہے ان کو زمین دی جائے، انہوں نے کہا کہ پی وی ایم اے پنجاب کے ممبران پورٹ قاسم پر زمین حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تاہم مہنگی اور جگہ کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین معظم الیاس نے کہا کہ ایم ڈبلیو ون جیٹی چاول کے ایکسپورٹ کیلئے مختص ہے تاہم خوردنی تیل کیلئے مقرر جیٹی کی حد 35 لاکھ ٹن ہے جو پوری طرح استعمال نہیں ہوئی۔

انہوں نے ممبران کو زور دیا کہ کسی بھی افسر یا اہلکار سے کرپشن میں کوئی تعاون نہ کیا جائے۔ پی این ایس سے کے چیئرمین سلطان چاؤلہ نے کہا کہ ادارہ پی وی ایم اے سمیت تمام صنعتکاروں سے تعاون کیلئے تیار ہے، نئیجہاز خریدنے کیلئیمطلوبہ فنڈ کا بندوبست کیا جارہا ہے تاہم پی وی ایم اے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جہاز چارٹر کرنے اور دیگر ذرائع سے قیمتی زرمبادلہ بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

پام آئل سپلائرز ایسوسی ایشن کے صدر نوید گیلانی نے کہا کہ سنگاپور سے جہاز چارٹر کئے جاتے ہیں اور پورٹ پر تاخیر سے کمپنی کو ڈیمریجز ادا کرنے پڑتے ہیں، پی این ایس سی جہاز چارٹر پر حاصل کرے تو ڈالر میں ڈیمریجز ادا کرنے سے بچا جاسکتا ہے۔ تقریب سے پی وی ایم اے کے سینئر ممبران امجد رشید اور شکیل اشفاق نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں