لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کی بازیابی کے حوالے سے کیس میں خاتون کی عمر کے تعین کے لئے پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے خاتون کو 8 ستمبر تک دارالامان بھجوا دیا۔
جسٹس راجہ غضنفرعلی خاں نے شہری محمدشان کی درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس کی بیوی کواسکے والدین نے گھر میں قید کر رکھا ہے، نہ توملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، نہ ہی گھر آنے دیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ خاتون کو بازیاب کروا کے درخواست گزارکے حوالے کیا جائے۔ا وکاڑہ پولیس نے خاتون کو بازیاب کروا کرپیش کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کو تنبیہ کی کہ اگرخاتون نے آپ کے حق میں بیان نہ دیا تووقت ضائع کرنے پرآپ پر50ہزارروپے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔
جسٹس راجہ غضنفرعلی خاں نے ریمارکس دیئے کہ بظاہرخاتون کم عمر لگ رہی ہے۔ اس پروکیل درخواست گزار نے بتایا کہ خاتون کی عمرتقریباً 22سال ہے۔عدالت نے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس خاتون کی عمرکا کوئی مستند ثبوت ہے؟ ۔تاہم مدعی اورخاتون کے والدین دونوں ہی عمر سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔عدالت نے پولیس کوہدایت کی کہ خاتون کی دستاویزات کی روشنی میں عمرکی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔









