لاہور ہائی کورٹ 72

خاتون اغواء کیس،چیف جسٹس عالیہ نیلم کا پولیس کی خالی فائل پر سخت اظہارِ برہمی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے مبینہ طور پر اغواء ہونے والی خاتون کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی تحویل سے لی گئی فائل خالی ہے، اس میں کچھ بھی موجود نہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار خاتون نے اپنی بیٹی فوزیہ بی بی کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا، ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد ، اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر کے ہمراہ پیش ہوئے۔ درخواست گزار کا وکیل مغویہ کی بازیابی کے لیے کوئی قابلِ اعتماد یا دستاویزی ثبوت پیش نہ کرسکا جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نادرا ریکارڈ، شناختی کارڈ اور دیگر بنیادی دستاویزات نہ بنوانے پر شدید حیرت اور ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس فائل خالی ہے، کوئی پراگریس نہیں کی گئی۔

یہ چیف جسٹس کی عدالت ہے، کوئی مذاق نہیںایسے غیر سنجیدہ اہلکاروں کو پولیس محکمے میں نہیں ہونا چاہیے۔اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مغویہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے کانسٹیبل کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے ۔چیف جسٹس نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مغویہ کا شناختی کارڈ، فارم ب، فیملی رجسٹریشن یا کسی اسکول کا ریکارڈ کیوں موجود نہیں۔ آپ نے شادی کی ویڈیو بنوالی، شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ آپ کو پتہ ہے دنیا کہاں تک پہنچ گئی ہے،فارم ب تک نہیں بنوایا، اسکول کا ریکارڈ نہیں۔ پھر ہم کیسے مدد کریں؟،کچھ تو دستاویزات دیں، یہ عدالت ڈائیلااگ کے لیے نہیں ہے۔

آپ نے ایک سماعت پر کہا تھا کہ بچی کو جن لے گئے؟ یہ عدالتیں ڈائیلاگ کے لیے نہیں، ثبوت کے لیے ہیں،عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ جب مغویہ کی 2019ء میں شادی کی ویڈیو موجود ہے تو شہری دستاویزات کیوں نہیں بنوائے گئے۔کوئی دستاویزی ثبوت پیش کریں جس سے ثابت ہو کہ مغویہ واقعی درخواست گزار کی بیٹی ہے۔اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر نے بتایا کہ پولیس نے عدالت کے حکم پر انکوائری کی، تین افراد نے تفتیش جوائن کی جن میں مغویہ کا بھائی ،درخواست گزار کا داماد مغویہ کا ماموں شامل ہیں تاہم شناختی دستاویزات نہ ہونے کے باعث ٹیکنالوجی کے ذریعے تفتیش میں مشکلات درپیش ہیں۔

عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی اور پولیس کو حکم دیا کہ ہر پندرہ روز بعد کیس پر پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔ اس کیس میں فوزیہ بی بی کے اغواء کا مقدمہ 2019میں تھانہ کاہنہ میں درج کیا گیا تھا، جس میں مغویہ کے شوہر اور ساس کو نامزد کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں