بیرسٹر سیف 69

حکومت سے اختلافِ رائے ،ناراضگی ہر طبقے میں موجود،مسلح ہو کر ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانا کسی صورت جائز نہیں،بیرسٹر سیف

کوہاٹ (رپورٹنگ آن لائن) سابق مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلافِ رائے اور ناراضگی ہر طبقے میں پائی جاتی ہے، تاہم مسلح ہو کر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا کسی صورت جائز نہیں،جذباتی نوجوانوں کیساتھ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مسائل کا پُرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

وہ گزشتہ روز کوہاٹ کے قبائلی سب ڈویژن درہ آدم خیل میں واقع فاٹا یونیورسٹی میں”ریاست اور سماج کے درمیان مکالمہ”کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔کانفرنس میں فاٹا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز، سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل اور ممبر شریعہ ایپلیٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، جامعہ پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر رضا، انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے سربراہ محمد اسرار مدنی، خرم شہزاد سمیت اساتذہ، محققین، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ، مقامی عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حالیہ چیلنجز، خصوصاً بنیان مرصوص جیسے اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا وقار بلند کیا ہے۔ انہوں نے مذہبی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ شدید حالات اور قربانیوں کے باوجود علما نے ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر صفِ اول کا قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیغامِ پاکستان کے متفقہ اعلامیے اور فتوے کے بعد مسلح جدوجہد کی نہ کوئی شرعی اور نہ ہی اخلاقی گنجائش باقی رہتی ہے۔

وائس چانسلر فاٹا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے علمی اور فکری پروگرامز جامعات کے تعلیمی اور سماجی کردار کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتبِ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ مکالمہ ہی مسائل کے حل کی بنیاد ہے۔کانفرنس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں