کراچی(رپورٹنگ آن لائن) حکومت سندھ نے حالیہ بارشوں سے متاثرہ کراچی کے 6 اضلاع سمیت سندھ کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ۔ حکومت سندھ کی جانب سے ہفتہ کو جاری نوٹیفیکشن کے مطابق 20 اضلاع میں کراچی کے 6 ، حیدرآباد ڈویژن کے 9 ،میر پورخاص کے 3 اور شہید بے نظیر آباد کے 2 اضلاع شامل ہیں ۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ منصوبابندی و ترقیات اور روینیو بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ انفراسٹرکچر، مکانات اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا سروے کرائیں تاکہ سڑکوں کے جال کی بحالی فوری کی جاسکے اور تباہ شدہ مکانات کیلئے معاوضہ بھی دیا جائے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز وزیراعلی ہاؤس میں کراچی سمیت تمام اضلاع میں بارش کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعلی سندھ نے کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز کو بارش کے پانی کی نکاسی اور اسی طرح کے دیگر کاموں کیلئے 5 ملین روپے جاری کئے ۔ اجلاس میں وزیر ریونیو مخدوم محبوب، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو قاضی شاہد پرویز، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی سہیل راجپوت، کراچی ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنروں نے شرکت کی جبکہ صوبے کے دیگر ڈویژنز کے ڈویژنل کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تیز بارش نے کراچی کے سڑکوں کو نقصان پہنچایا ہے لہذا مون سون اسپیل کے فوراً بعد ہی مرمت کا کام شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ پی ڈی کراچی پروجیکٹ خالد مسرور کو فون کریں اور ان سے مرمت کا کام شروع کرنے کو کہیں۔ میں نے شہر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ خستہ ہال سڑکیں، نالوں، گلیوں اور گٹروں کا سروے کریں اور چیئرمین پی اینڈ ڈی ضروری تخمینہ اور اسکی منظوری کیلئے مسودہ پیش کرے تاکہ کام شروع کیا جاسکے۔
وزیراعلی سندھ نے کہا کہ شہر کی تقریباً تمام بڑی شاہراہوں کو صاف کردیا گیا ہے لیکن ڈپٹی کمشنرز کو سڑکوں کو صاف کرنے کیلئے اسٹاف اور مین پاور کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ بارش کے پانی کی نکاسی اور دیگر کاموں کیلئے کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن کے ہر ڈپٹی کمشنر کو 5 ملین روپے جاری کرے۔ ایک سوال کے جواب میں کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ محرم الحرام کے جلوس کا راستہ تو صاف ہوگیا ہے لیکن ٹاور کے علاقہ میں کافی پانی جمع ہے۔
وزیراعلی سندھ نے کمشنر کو اسپیشل ورکرز ٹیموں کی تعیناتی کرنے اور جلوس کا تمام راستے صاف کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ گجرنالہ، ملیر ندی اور سکھن ندی کے پشتوں کے ساتھ قائم گلیوں، گوٹھوں اور علاقوں کو چھوڑ کر شہر کے تقریباً تمام مرکزی شاہراہوں سے پانی کو صاف کردیا گیا ہے۔









