اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)جولائی تا اکتوبر درآمدات 64 فیصد اضافے سے 24.99 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جاری اعلامیہ کے مطابق مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی زیر صدارت وزارت تجارت میں اجلاس ہوا جس میں رواں مالی سال میں درآمدات، تجارت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر ان کے اثرات پر غور کیا گیا۔ مشیر تجارت کو بتایاگیاکہ وزارت تجارت درآمدات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، وزارت تجارت اسٹیٹ بینک درآمدات کا تجزیہ مل کر رہے ہیں تابروقت مداخلت کی جا سکے۔ بتایاگیاکہ جولائی تا اکتوبر درآمدات 64 فیصد اضافے سے 24.99 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں،گزشتہ مالی سال جولائی تا اکتوبر کے دوران 15.19 ارب امریکی ڈالر تھی۔ بتایاگیاکہ اس اضافے کا تقریباً 40 فیصد خام مال اور درمیانی اشیا میں ہے،
خام مال کی درآمدات میں اضافہ اچھی بات ہے اور اس سے ملک میں صنعتی سرگرمیاں عروج پر آئی ہیں۔ بتایاگیاکہ کیپٹل گڈز بشمول مشینری کی درآمد میں اضافہ صنعتی توسیع، اپ گریڈیشن اور نئی صنعتوں کے قیام کا اشارہ تھا، طویل مدت میں یہ درآمدات اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ بتایاگیاکہ بقیہ 60 فیصد درآمدات میں بنیادی طور پر توانائی 34 فیصد، ویکسینز 11 فیصد ہیں، خوراک کی درآمدات 8 فیصد، اشیائے خوردونوش 2 فیصد اور دیگر تمام 5 فیصد درآمدات شامل ہیں۔ بتایاگیاکہ یہ درآمدات متعلقہ وزارتوں کے دائرہ کار میں تھیں اور ان میں سے زیادہ تر غیر لچکدار نوعیت کی ہیں، اکتوبر 2021 میں پاکستان کے نان انرجی امپورٹ بل میں 12.5 فیصد کی کمی ہوئی ہے، نان انرجی امپورٹ بل میں ستمبر 2021 کے مقابلے میں 624 ملین امریکی ڈالر کی کمی ہے، مشیر تجارت نے غیر ضروری درآمدات روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔









