چینی حکومت 39

جنگ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے، چینی ایلچی

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی حکومت کے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے خصوصی ایلچی زائی جون نے بیجنگ میں ایک خصوصی پریس بریفنگ منعقد کی، جس میں انہو ں نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور اپنے دورے کے بارے میں آگاہ کیا۔

پیر کے روز زائی جون نے کہا کہ اس جنگ کا دائرہ کار، شدت اور دورانیہ گزشتہ سال ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں سے تجاوز کر چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کافی افراتفری کا شکار ہے، اور خطے کے ممالک اور عوام کی اس وقت سب سے بڑی خواہش امن اور سکون ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقوں کو فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنی چاہئیں، تناؤ کو مزید بڑھنے سے روکنا چاہیے، اور صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے بچانا چاہیے۔

زائی جون نے کہا کہ جنگ کے پھیلاؤ کو ہر صورت روکا جانا چاہیے۔ موجودہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کے خطے کی سلامتی اور استحکام کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے، اور عالمی معیشت، توانائی اور جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین عام شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر ہونے والے تمام حملوں کی بلا امتیاز مذمت کرتا ہے۔

زائی جون نے کہا کہ یکطرفہ پسندی کی بھرپور مخالفت ہونی چاہیے۔ طاقت کا ہونا سچائی یا حق پر ہونے کی دلیل نہیں ہے، عالمی برادری کو مل کر بین الاقوامی قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کی مخالفت کرنی چاہیے، اور دنیا کو “جنگل کے قانون” کی طرف واپس جانے سے روکنا چاہیے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں، چینی حکومت کے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے خصوصی ایلچی زائی جون نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کا شٹل ڈپلومیسی کے تحت دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، مصر کے وزرائے خارجہ اور خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرلز سے ملاقاتیں کیں، اور قطر کی وزارت خارجہ کے وزیر مملکت سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، تاکہ علاقائی صورتحال پر بات چیت کی جا سکے اور صورت حال کو پرامن بنانے، جنگ روکنے اور امن کے فروغ کے لیے چین کی جانب سے تعاون پیش کیا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں