جنرل ہسپتال 112

جنرل ہسپتال میں امراض گردہ و مثانہ کے علاج کیلئے روائتی طریقہ ختم، ماڈرن ٹیکنالوجی متعارف

لاہور۔12اکتوبر(زاہد انجم سے) یورالوجی سے متعلق ہر قسم کی بیماریوں کا علاج لاہور جنرل ہسپتال میں پروفیسر ڈاکٹر خضر حیات گوندل کی سربراہی میں روائتی سرجری کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے جا رہے ہیں، گردہ ومثانہ کے غدود،پتھری اور کینسر زدہ حصے کے آپریشنز بھی اس طریقہ کار پر ہونے سے شہریوں کو خاطر خواہ ریلیف مل رہا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔ نوجوان ڈاکٹرز یورالوجی اور نیفرالوجی میں سپیشلائزیشن کریں تاکہ امراض گردہ مثانہ کی روک تھام اور مریضوں کی بہتر انداز میں نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان ایسوسی ایشن آف یورالوجیکل سرجنز کے سابق صدر ڈاکٹر ممتاز احمد نے “پاز لاہور چیپٹر” اور پی جی ایم آئی کے ہیلتھ ایجوکیشن پروگرام کے تحت لاہور جنرل ہسپتال میں نو جوان یورالوجسٹس کیلئے منعقدہ دو روزہ تربیتی کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ملک بھر سے ایف سی پی ایس پارٹ ٹو اور ایم ایس یورالوجی کے سٹوڈنٹس شریک ہیں جو مستقبل کے کنسلٹنٹ بننے کے لئے آئندہ امتحان میں شرکت کریں گے جبکہ مذکورہ کورس کا اہتمام پروفیسر خضر حیات گوندل نے کیا۔نوجوان یورالوجسٹس کو ملک کے سینئر پروفیسرز آف یورالوجی،پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد،پروفیسر محمد نذیر، پروفیسر فواد نصر اللہ، پروفیسر شمس،پروفیسر فضل نیازی، پروفیسر حافظ شہزاد، پروفیسر نوازبھٹی، پروفیسر نوید اقبال، پروفیسر صفدرخان، پروفیسر اسد شاہ،پروفیسر ندیم بن نصرت، پروفیسر بریگیڈئیر(ر) اکمل، پروفیسر اعجاز صدیقی، پروفیسر نثار، پروفیسر اکرم ملک سمیت ماہرین نے اپنے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں نوجوان ڈاکٹرز کو امتحان سے متعلق رہنمائی کی اور تلقین کی کہ وہ کمرہ امتحان میں جلد بازی کی بجائے تحمل سے کام لیا کریں اور نگران کے سامنے گھبراہٹ کی بجائے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کر کے کامیابی سمیٹیں۔ پروفیسر خضر حیات گوندل نے تمام سینئر پروفیسر زکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر نوجوان ڈاکٹرز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے اپنے علم سے روشناس کرایا اور وہ مستقبل میں بھی پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر کی رہنمائی میں نوجوان ڈاکٹرز کو تربیتی کورس کروانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

مزید برآں پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد اور پروفیسر خضر حیات گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ڈاکٹر زامتحان پاس کر کے میدان عمل میں اتریں گے لہذا اُن کے کاندھوں پر مریضوں کے علاج معالجے اور انہیں کونسلنگ فراہم کرنے کی بھاری ذمہ داریاں ہوں گی جن کو ادا کرنے کے لئے انہیں انتہائی پیشہ وارانہ لگن اور فرض شناسی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان ڈاکٹرز یورالوجی اور نیفرالوجی میں سپیشلائزیشن کریں تاکہ امراض گردہ مثانہ کی روک تھام اور مریضوں کی بہتر انداز میں نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد کا کہنا تھا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، پینے کے صاف پانی کی قلت،ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے گردے اور یورن کے امراض میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور گردہ نکارہ ہونے کے کیسز بھی عام ہوتے جا رہے ہیں لہذا نوجوان نسل نیم حکیم کے کشتہ جات سے اجتناب برتیں۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف متعلقہ اداروں کو ملاوٹ کے خاتمے کے لئے تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے بلکہ شعبہ صحت میں امراض گردہ و مثانہ کے ماہرین کی تعداد بڑھانے نا گزیر ہے تاکہ مریضوں کا تسلی بخش علاج معالجہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں