آصف علی زرداری 31

جمہوریت انصاف سے مشروط، تمام ادارے قانون کی پاسداری یقینی بنائیں،صدر زرداری

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) صدرِ مملکت نے ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ آج پوری قوم اپنے عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا، اور اس کیس میں کئی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔

عدالتی مشاہدات کے مطابق بھٹو کیس میں اپیل کے حق کو بھی متاثر کیا گیا تھا، صدر نے 1973 کے آئین کو بھٹو دور کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین آج بھی ملک کی جمہوری بنیادوں کا ضامن ہے، انصاف اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔

صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد بھٹو کیس کو دوبارہ کھولا گیا، تاہم انصاف کی عدم فراہمی کے اثرات براہ راست عوام پر پڑتے ہیں۔

انہوں نے بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عالمی رہنماؤں نے بھی بھٹو کے ٹرائل پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جمہوریت کی مضبوطی انصاف سے مشروط ہے اور تمام اداروں کو قانون اور انصاف کی پاسداری یقینی بنانا ہوگی۔

ذوالفقار بھٹو کی قربانی جمہوریت اور عوام کے وقار کی آواز بن گئی: بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے مدبر رہنما تھے جن کی قربانی جمہوریت اور عوام کے وقار کی لازوال آواز بن گئی، ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے پاکستان کے خواب کے معمار تھے، جہاں اقتدار عوام کا ہو۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام کا خواب ایک ایسا پاکستان تھا جہاں محروم طبقات کے دلوں سے ہر دن امید کا سورج طلوع ہو، ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے سیاسی و سماجی دھارے کو نئی جہت دی، قوم کو 1973 کا متفقہ آئین دیا اور عوام کو ووٹ کی طاقت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قائد عوام نے تاریخی زرعی و صنعتی اصلاحات کے ذریعے محنت کشوں اور کسانوں کو بااختیار بنایا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ کر قومی خودمختاری کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں