محمد جاوید قصوری 70

جماعت اسلامی پنجاب وسطی کا ہفتہ یکجہتی کشمیر کا باضابطہ آغاز،مختلف پروگرامات منعقد کئے جائیں گے ‘ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پنجاب وسطی کی جانب سے ہفتہ یکجہتی کشمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ عملی اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا اور عالمی برادری کو بھارتی مظالم کی جانب متوجہ کرنا ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہماری قومی، دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی دفتر منصورہ میں ڈاکٹر بابر رشید صوبائی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب وسطی، ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی، نصر اللہ گورائیہ نائب امیرجماعت اسلامی پنجاب اور عمران الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ جاوید قصوری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبری گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور شہری آزادیوں پر قدغنیں عائد کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پانچ اگست 2019 کے بعد بھارتی اقدامات نے کشمیری عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، تاہم کشمیری عوام کا عزم اور حوصلہ آج بھی غیر متزلزل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے سلسلہ میں جماعت اسلامی پنجاب کے مختلف اضلاع میں یکجہتی کشمیر مارچ، ریلیاں، جلسے اور دیگر پروگرامات منعقد ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری گوجر انوالہ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔ڈاکٹر بابر رشید سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب فیصل آباد،ذکر اللہ مجاہد نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب ساہیوال،نصر اللہ گورائیہ نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب شیخوپورہ،رانا عبد الوحید خان نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب ٹوبہ ٹیک سنگھ،رانا تحفہ دستگیر احمد نائب قیم جماعت اسلامی پنجاب حافظ آباد،میاں رحمت اللہ وتو نائب قیم جماعت اسلامی پنجاب پاکپتن،مہربہادر خان جھگڑ نائب قیم جماعت اسلامی پنجاب چنیوٹ جبکہ محمد اویس گھمن نائب قیم جماعت اسلامی پنجاب وزیر آباد کے پروگرامات میں شرکت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کشمیری عوام کی اس جدوجہد آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور ہر سطح پر ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ ہفتہ یکجہتی کشمیر کے دوران پنجاب وسطی کے تمام اضلاع میں ضلعی سطح پر پریس کانفرنسز اور میڈیا بریفنگز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ مختلف اضلاع میں عوامی آگاہی کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہریوں کو کشمیر کی تاریخی حیثیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں، حقِ خودارادیت کے اصول اور مقبوضہ وادی میں جاری انسانی المیے سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ان کیمپس کے ذریعے عام شہریوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔اسی سلسلے میں آل پارٹیز کشمیر کانفرنس اور مختلف مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے جن کا مقصد تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔ ان کانفرنسز میں متفقہ طور پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت اور بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کسی ایک جماعت یا طبقے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے اس پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

نوجوان قوم کا مستقبل ہیں اور ان میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد نئی نسل کو مسئلہ کشمیر کی تاریخی، سیاسی اور انسانی حیثیت سے آگاہ کرنا اور انہیں اس جدوجہد آزادی کے ساتھ فکری طور پر وابستہ کرنا ہے۔ باشعور اور باخبر نوجوان ہی مستقبل میں کشمیر کاز کے مؤثر سفیر بن سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ عوامی سطح پر بھرپور آگاہی مہم کے تحت موٹر سائیکل ریلیاں، تصویری نمائشیں، مختصر ڈاکیومنٹریز کی نمائش، بازاروں اور چوکوں میں معلوماتی اسٹالز اور عوامی ٹاک سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری حالات، انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیری عوام کی قربانیوں سے آگاہ کیا جائے گا۔

پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔خواتین ونگ کی جانب سے خصوصی سرگرمیوں کے تحت ”ایک چراغ کشمیر کے نام” پروگرام منعقد کیا جائے گا ،جو کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ یکجہتی کی علامت بنے گا۔بھارت پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہے۔جاوید قصوری نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ڈونلڈ ٹرمپ کا بودڑ آف پیس منصوبے میں شرکت سے کئی سوالات نے جنم لے لیا ہے ، اس حوالے سے پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے ۔انہوں نے بسنت کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خونی کھیل ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہوگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں