300

جلسہ، نہ کارنر میٹنگ، پوسٹرز نہ فلیکس نہ ہی پبلسٹی، سینٹ امیدوار 15 لاکھ کہاں خرچ کرینگے؟

شہباز اکمل جندران۔۔۔

انتخابی مہم کے بغیر ہی سینٹ الیکشن کے امیدواروںکے لیے انتخابی اخراجات کاقانون سوالیہ نشان بن گیا۔ کارنر میٹنگز ، جلسے جلوس ،فلیکسز ،سٹیمرز،پوسٹرز اور پبلسٹی کے بغیر 15لاکھ روپے خرچ کیسے ہونگے۔

دی الیکشنز ایکٹ 2017کے سیکشن132کے تحت انتخابی مہم کے دوران قومی اسمبلی کا امیدوار40لاکھ روپے، صوبائی اسمبلی کا امیدوار 20لاکھ روپے اور سینٹ کا امیدوار 15لاکھ روپے خرچ کرسکتا ہے۔
جلسہ، نہ کارنر میٹنگ

ملک میں سینٹ الیکشن کے امیدوار کے لیے انتخابی اخراجات کی مد میں 15لاکھ روپے کی اجازت موضوع بحث بن گئی ہے۔
جلسہ، نہ کارنر میٹنگ
دی الیکشنز ایکٹ 2017کے سیکشن132کی کلاز 3کی ذیلی کلاز aکے تحت انتخابی مہم کے دوران سینٹ کا امیدوار 15لاکھ روپے ، کلاز bکے تحت قومی اسمبلی کا امیدوار 40لاکھ روپے اور کلاز cکے تحت صوبائی اسمبلی کا امیدوار زیادہ سے زیادہ 20لاکھ روپے خرچ کرسکتا ہے۔ملک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں امیدواروں کوپوسٹر ، بینر ، ، فلیکسزپمفلٹ ،سٹیمر اور ہورڈنگز کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ کارنر میٹنگز ، جلسے جلوس اور ریلیاں بھی منعقد کروانا ہوتی ہیں۔
جلسہ، نہ کارنر میٹنگ
ڈور ٹو ڈوور اور حلقے کے مختلف علاقوں میں ووٹ اپیل کے لیے وزٹ کرنا ہوتا ہے۔گاڑیاں کرائے پر لی جاتی ہیں۔ فیول اور کرائے کے اخراجات برداشت کئے جاتے ہیں۔ووٹرزاور سپورٹرزکی فٹیکیں جھیلنا پڑتی ہیں۔ کیٹرنگ سے لیکر ساوئنڈ سسٹم تک اور ٹینٹ سروس سے لیکروال چاکنگ تک اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف سینٹ کے انتخابات میں امیدوار ایسے اخراجات سے آزاد ہوتا ہے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سینٹ کاامیدوار ووٹرز سے رابطے کے لیے سفر کرتا ہے پٹرول و ڈیزل خرچ کرتا ہے یا ووٹرز کو دعوت دیتا ہے۔تو اخراجات تو ہوتے ہیں۔

لیکن انتخابی مہم کے بغیر ہی سینٹ الیکشن کے امیدواروں کو اس قدر بھاری انتخابی اخراجات کی اجازت کا قانون سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں