ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر 280

جعلی نمبر پلیٹ۔ ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر۔ڈائیریکٹر کی ساکھ داو پر

رپورٹنگ آن لائن

اسلام آباد نمبر کی جعلی رجسٹریشن پلیٹ آویزاں کرکے چلائی جانے والی لینڈ کروزر تاحال رجسٹرڈ نہیں ہوسکی۔جس سے ایک طرف محکمے کو ریونیو کی مد میں لگ بھگ 27 لاکھ روپے کے نقصان کا سامنا ہے .

ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر
جعلی نمبر پلیٹ۔ ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر۔ڈائیریکٹر کی ساکھ داو پر

تو دوسری طرف روڈ چیکنگ کے دوران زیرو ٹالرنس شو کرنے والے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ریجن سی لاہور محمد آصف کی ساکھ داو پر لگ گئی ہے۔کہ ان کی سپر وئین میں جعلی نمبر پلیٹ کی حامل ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر کو ان کی ماتحت ایم آر اے رانا خوشنود اور انسپکٹر محمد نوید نے کیسے تھانے سے چھڑوا دیا۔

ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر۔
جعلی نمبر پلیٹ۔ ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر۔ڈائیریکٹر کی ساکھ داو پر

زرائع کے مطابق 24 فروری کو ایکسائز انسپکٹر منیب نے جعلسازی اور نادہندگی پر پی ایس ایل میچ کے دوران قذافی سٹیڈیم لہور سے لینڈ کروزر گاڑی پکڑی۔اور اسے تھانہ گلبرگ کی چوکی ایف سی کے کے حوالے کردیا۔گاڑی پر اسلام آباد نمبر کی جعلی پلیٹ لگی تھی اور ملک کے کسی بھی شہر میں یہ گاڑی رجسٹرڈ بھی نہ تھی۔

ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر
جعلی نمبر پلیٹ۔ ان رجسٹرڈ لینڈ کروزر۔ڈائیریکٹر کی ساکھ داو پر

تاہم صورتحال اس وقت پیچیدہ ہوگئی جب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائیریکٹوریٹ جنرل اور ریجن سی کے افسر رانا خوشنود مذکورہ انسپکٹر کو ریکوری کے بغیر ہی گاڑی چھوڑنے کے لئے دباو ڈالنے لگے اور اسے معطلی اور راجن پور ٹرانسفر جیسی دھمکیاں دینے لگے۔اس سلسلے میں رانا خوشنود کی دھمکی آمیز آڈیو بھی منظر عام پر آئی۔

البتہ انسپکٹر منیب نے قانون کے تابع رہتے ہوئے ریکوری کے بغیر گاڑی چھوڑنے سے انکار کردیا۔ایکسائز انسپکٹر منیب کے انکار پر ایم آر اے رانا خوشنود نے دوسرے انسپکٹر محمد نوید کے ذریعے گاڑی چھڑوادی۔اور اسی روز انسپکٹر محمد منیب کو ایک پرانے معاملے میں معطل کر دیا گیا۔

26 فروری کو انسپکٹر محمد نوید کی چھوڑی گاڑی 9 مارچ تک نہ تو رجسٹرڈ ہوئی ہے نہ ہی اس کے مالک سے ریکوری ہوسکی ہے اور نہ ہی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے اسلام آباد نمبر کی جعلی پلیٹ پر جعلسازی کا مقدمہ درج کروایا ہے بلکہ گاڑی کی فائل اپنے قبضے میں لیکر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے گاڑی چھوڑ دی یے حالانکہ پکڑی جانے والی ان رجسٹرڈ گاڑی چھوڑنا جرم ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ گاڑی کو رجسٹریشن اور ریونیو کی ادائیگی کے بغیر چھڑوانے کے لئے سابق ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب محمد علی کی طرف سے اہلکاروں کو مجبور کیا گیا .

یہی وجہ تھی کہ ریجن سی لاہور کے ڈائریکٹر محمد آصف نے اپنے ماتحت افسر منیب احمد کا اصولی اور قانونی طورپر ساتھ دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی اور گاڑی چھڑوائے جانے کے عمل کی حمایت کرے ہوئے اپنی ساکھ اور شہرت کو داو پر لگا لیا۔

موٹر برانچ لاہور کے اہکار اس سارے عمل کو انتہائی تشویش اور افسوس سے دیکھتے ہیں اور ان کہنا ہے کہ جب طاقتور اور سفارشی لوگوں کی گاڑیاں ریکوری کے بغیر چھوڑنی ہی ہیں اور متعلقہ اہلکاروں کو شاباشی دینے کی بجائے انہیں معطلی جیسی سزائیں دی جائینگی تو وہ دلجمعی سے روڈ چیکنگ کیسے کر سکیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسپکٹر منیب احمد کو فی الفور بحال کرتے ہوئے انسپکٹر محمد نوید اور ایم آر اے رانا خوشنود کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر محمد نوید کا کہنا تھا کہ انہوں نے افسروں کے کہنے پر گاڑی چھوڑی اور گاڑی کی فائل ایم آر اے رانا خوشنود کے حوالے کردی ہے۔محمد نوید کا کہنا تھا کہ اس نے چیک کیا ہے گاڑی کے کاغذات ٹھیک ہیں لیکن جعلی بھی ہوسکتا ہیں۔وی بک بھی بعض اوقات جعلی نکل آتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں