بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا ، جس پر عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس واقعے نے دنیا کو واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر بالادستی کا یہ طرزِ عمل یونہی جاری رہا اور طاقت کو قواعد و ضوابط پر فوقیت دی جاتی رہی تو بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کا وقار مجروح ہو جائے گا اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر “جنگل کے قانون” جیسے خطرناک دور کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
اگست 2025 سے امریکہ نے “بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی” کے نام پر کیریبین خطے میں جنگی جہازوں کی تعیناتی، تیل بردار جہازوں کی ضبطی اور سمندری راستوں کی جبری ناکہ بندی سمیت متعدد اشتعال انگیز اقدامات کیے۔ٹرمپ انتظامیہ نے نہ صرف یک طرفہ طور پر مادورو حکومت کو “غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” قرار دیا ، وینزویلا کے بیرونِ ملک اثاثے منجمد کیے، اس کی عالمی توانائی تجارت کے راستے مسدود کیے بلکہ سفارتی ذرائع سے مادورو پر انتہائی دباؤ ڈال کر اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
جب سفارتی دباؤ اور معاشی ناکہ بندی مؤثر ثابت نہ ہوئی تو امریکہ نے خصوصی دستوں کے ذریعے سرحد پار فوجی کارروائی کی اور رات کی تاریکی میں سوئے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا۔ امریکی اقدامات دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں طاقت کے ذریعے مداخلت کرنا ہے، جبکہ اس کا پسِ پردہ مقصد وینزویلا کے توانائی وسائل کو لوٹنا ہے ۔ یہ اقدام نہ صرف وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی قواعد کی صریح توہین بھی ہے۔
امریکہ کے بالادستی رویے نے دنیا بھر میں شدید مخالفت اور مذمت کو جنم دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے فوری طور پر امریکی اقدام پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سخت مذمت کی۔ برازیل کے صدرلوئز اناسیو لولا ڈی سلوا نے کہا کہ امریکہ نے “بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک خودمختار ریاست پر حملہ کیا، جو تشدد، انتشار اور عدم استحکام سے بھرپور دنیا کی طرف پہلا قدم ہے”۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اس اقدام کو “خطرناک بین الاقوامی مثال” قرار دیا، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔امریکہ کے اندر بھی اس کارروائی پر شدید تنقید سامنے آئی، متعدد شہروں میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر وینزویلا میں فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے کیے ، ایک سینیٹر نے کہا کہ امریکہ ایک “عالمی غنڈہ ” بن چکا ہے۔ یہ ردِعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ کثیر قطبی دنیا میں بالادستی اور طاقت کی سیاست اب قابلِ قبول نہیں رہی اور یک طرفہ اقدامات عالمی برادری کی اجتماعی مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دہانی کراتا ہے کہ بالادستی آج کے دور میں عالمی امن اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تاریخ اور موجودہ حقائق بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ریاستی خودمختاری کی برابری عالمی امن کی بنیاد ہے، جبکہ خود کو برتر سمجھنا اور کمزوروں پر طاقت آزمانا تنازعات اور عدم استحکام کی اصل جڑ ہے۔ وینزویلا کے لیے یہ غیر قانونی فوجی کارروائی پہلے سے موجود معاشی کساد اور انسانی بحران کو مزید گہرا کرے گی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہجرت اور سرحد پار منشیات اسمگلنگ جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں، جو پورے لاطینی امریکہ کے امن و استحکام کو متاثر کریں گے۔
ایک وسیع و طویل نقطہ نظر سے، امریکہ کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے: اگر بڑی طاقتیں کسی بھی خودمختار ملک کو من مانے طور پر “دہشت گرد تنظیم” کا لیبل لگا کر فوجی کارروائی کے ذریعے اس کے منتخب سربراہ کو گرفتار کرنے لگیں تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عالمی نظام انتشار کا شکار ہو جائے گا، جس سے دنیا ایک بار پھر “جنگل کے قانون” کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی نظام پر بالادستی کے خطرات کے تناظر میں چین نے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیے ، جن کا مقصد خودمختاری کی برابری، مشترکہ سلامتی، تعاون اور مشترکہ مفادات اور ہم آہنگ بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے۔ یہ اصول بالادستانہ رویوں کے بالکل برعکس ہیں۔ تاریخ اور حقیقت دونوں اس امر کی گواہ ہیں کہ دنیا کو انصاف درکار ہے، جبر نہیں؛ مشترکہ سلامتی مطلوب ہے، یک طرفہ بالادستی نہیں۔
کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مفادات کو بین الاقوامی قانون اور عالمی برادری کے اجتماعی مفاد پر فوقیت دے۔ تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام اور عوام کے اپنے ترقیاتی راستے کے انتخاب کا حق ہر حال میں محفوظ رہنا چاہیے۔ بالادستی کی منطق پر عمل، بین الاقوامی قواعد کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی نظام کو چیلنج کرنا بالآخر تنہائی، علاقائی عدم استحکام اور عالمی امن کے لیے خطرات میں اضافے کا سبب بنے گا۔









