انفارمیشن کمیشن 228

جاب ڈسکرپشن نوٹیفائیڈ نہ ہوسکا۔ انفارمیشن کمیشن میں ملازمین سے مرضی کا کام لیا جانے لگا۔

شہبازاکمل جندران۔۔۔

پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت معرض وجود میں آنے والے پنجاب انفارمیشن کمیشن میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے لئے سردست Job Description نوٹیفائی نہیں کیئے جاسکے جس کے باعث ملازمین نہیں جانتے کہ ان کاکام کیا ہے۔

انفارمیشن کمیشن
انفارمیشن کمیشن

مقامی شہری کی طرف سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت بذریعہ درخواست پوچھے جانے پر کمیشن نے تحریری طورپر بتایا کی پنجاب انفارمیشن کمیشن میں تاحال ملازمین کے لیئےجاب ڈسکرپشن نہیں بنائے جاسکے۔

9 برس قبل قیام میں آنے والے صوبائی انفارمیشن کمیشن میں تین کمشنرز کے علاوہ ایک اسسٹنٹ ڈائیریکٹر، چار اسسٹنٹنس، سٹینو گرافر، اکاؤنٹنٹ اور دیگر ملازمین فرائض انجام دے رہے ہیں۔

چاروں اسسٹنٹس عوامی شکایات اور اپیلوں کو ڈیل کرتے ہیں اور آرڈر بھی ٹائپ کرتے ہیں لیکن کسی بھی ملازم کی جاب کیا ہے اس پر کمیشن کی توجہ کی ضرورت ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب محبوب قادر شاہ تین سالہ مدت کے بعد ایکبار پھر تین سال کے لیئے کمیشن کے چیف مقرر کر دیئے گئے ہیں اور وہ معلومات تک رسائی کے قانون کی ترویج اور آگاہی کے لئے بھی متحرک دکھائی دیتے ہیں لیکن اپنے ہی ادارے میں انتہائی اہمیت کا حامل کام کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں