احسن اقبال 259

تنقید کے باوجود عظمت سعید کا کمیشن کی سربراہی سے الگ نہ ہونے سے لگتا ہے عمران خان کیساتھ گٹھ جوڑ ہے’ احسن اقبال

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اتنی زیادہ تنقید کے باوجود عظمت سعید کا تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سے الگ نہ ہونے سے لگتا ہے کہ عمران خان اور عظمت سعید میں گٹھ جوڑ ہے ،پاکستان کی تمام بارز کہہ رہی ہیں کہ جسٹس عظمت سعید خود کو براڈ شیٹ سے الگ کرلیں،

یہ حکومت ناکام ہوچکی ہے ،عمران خان فیل ہوچکا ہے ،ہم نے پاکستان کو ناکام نہیں ہونے دینا،ہم نے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے اوردوبارہ جب پاکستان کی باگ ڈور سنبھالیں تو پاکستان کی فوری تعمیر شروع کردیں،ہم نے قرضوں سے بجلی پیدا کی، سی پیک کو کامیاب کیا،عمران خان تم نے دو سالوں میں ہمارے سے زیادہ قرضے لئے لیکن ایک اینٹ نہیں لگائی، انہیں پانچ سو سال بھی دیدئیے جائیں تو کہیں گے ہزار سال چاہئیں،عمران خان نے زراعت دشمن پالیسیاں نہ بدلیںتو مودی سرکار جیسا حال ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے کسان ونگ کی تنظیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کسان ونگ سیکرٹریٹ کی تنظیم نو کررہی ہے، تنظیم سازی کے سلسلے میں ونگز کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسان نے معیشت میں اپنا پسینہ ڈال کر ملکی ترقی کو فروغ دیا، اگر ماضی میں اقتصادی پابندیوں کا سامنا کیاتو کسانوں کا جذبہ اس کے پیچھے تھا،ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں جب ملک پر پابندی لگی تو کسانوں نے اپنا بھرپور کردارادا کیا، ہمارے دور میں کسانوں کے لئے ڈی اے پی جو چوبیس سو میں فروخت ہوتی رہی موجودہ حکومت نے اسے چھیالیس سو روپے کرکے کمر توڑ دی، زرعی ادویات کی قیمتوں میں تین سے چار فیصد اضافہ کیاگیا،

زرعی مشین چلانے کیلئے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کرکے کسان کی پیداواری لاگت میں چار فیصد اضافہ کیاگیا، کسان پیداواری قیمت بڑھنے سے غریب ہورہاہے، پی ٹی آئی حکومت کے ڈھائی سال بعد کپاس، چینی اور گندم بھی درآمد کررہاہے جو باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی سرگرمیاں اورروزگار زراعت کے ساتھ منسلک ہے ،ہماری زراعت دو سال سے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے ،آج ہم اپنی ضرورت کی پیداوار میں ناکام ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کے لئے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا،چین نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ زراعت پر ہماری مدد کرے گا،مسلم لیگ (ن)نے زراعت میں خود کفالت کرکے ملک کو مضبوط کیاتھا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو آج سے تیاری شروع کرنی ہے ،یہ حکومت ناکام ہوچکی ہے ،عمران خان فیل ہوچکا ہے ،ہم نے پاکستان کو ناکام نہیں ہونے دینا،ہم نے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے ،ہم دوبارہ جب پاکستان کی باگ ڈور سنبھالیں تو پاکستان کی فوری تعمیر شروع کردیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں پانی کی کمی ہمارے لئے بڑا چیلنج ہے ،یہ حکومت چین سے تھوڑا سا بھی فائدہ نہیں اٹھا سکی ،اگر ہم فی ایکڑ پیداوار نہیں بڑھائیں گے تو تو ترقی نہیں کرسکتے ۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب کے دیہاتوں میں کارپٹڈ روڈ بنا کر کسانوں کو آسانی فراہم کی تھی ،آج لگتا ہے ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے ،ملاوٹ سر عام ہے اور اس کو کوئی دیکھنے والا نہیں ،یوں لگتا ہے زراعت کا شعبہ تحریک انصاف کی وجہ سے یتیم ہوگیا ہے ،عمران خان نے زراعت دشمن پالیسیاں نہ بدلیںتو مودی سرکار جیسا حال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جب کال دے گی تو کسان اپنے ٹریکٹرز لے کر اسلام آباد پہنچیں گے ،ہم نے جس جذبے کے ساتھ دہشتگردی کا خاتمہ اور تباہی والے پاکستان کو اٹھایا تھا،اگر فوری محنت بھی شروع کریں تو پاکستان کو ٹھیک کرنے میں تین سے چار سال لگیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے سوال کرتے تھے اورکہتے ہیں کہ پچھلے قرضے لے گئے ،ہم نے قرضوں سے بجلی پیدا کی، سی پیک کو کامیاب کیا،عمران خان تم نے دو سالوں میں ہمارے سے زیادہ قرضے لئے لیکن ایک اینٹ نہیں لگائی ،ہمارے لگائے گئے منصوبوں کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے ،تمھارے جانے کے بعد جو حکومت آئے گی اس کو قرض ادا کرنے پڑے گا ،ہم اپنے قرضوں کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں،عمران نیازی اگر تم پانچ سال رہ گئے تو پندرہ ،بیس ہزار ارب کا قرضہ لے لو گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے تمہارا سپانسر عارف نقوی امریکہ کے حوالے ہونے لگا ہے عمران نیازی سکیورٹی تھریٹ بن گئے ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں کا مجمع تم سے استعفیٰ لینے آئے گا تو تم راہ فرار اختیار کرو گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جاہل کہتا ہے پانچ سال میں الیکشن ہوجاتے ہیں کوئی ملک ترقی کیسے کرسکتا ،یہ ایسے نالائق اور نا تجربہ کار ہیں کہ اگر انہیںپانچ سو سال بھی دیئے جائیں تو کہیں گے تھوڑے ہیں ہزار سال دیئے جائیں ،اگر یہ اتنے اچھے ہوتے تو بی آر ٹی آٹھ سال میں بناتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک قائد اعظم کی امانت ہے ،قائد اعظم نے نصیحت کی کہ ووٹ کی طاقت سے اس ملک کو چلانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ ہے کہ گندم کا ریٹ اٹھارہ سو روپے من کیا جائے ،کپاس کے بیج کو امپورٹ کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں