جمشید اقبال چیمہ 207

تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ نے این اے 133سے کاغذات نامزدگی جمع کر دئیے

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصا ف کے مرکزی رہنما و حلقہ این اے 133سے امیدار جمشید اقبال چیمہ نے الیکشن کمیشن کے دفتر میں کاغذات نامزدگی جمع کر ادئیے ۔

اس موقع پر پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئر پرسن مسرت جمشید چیمہ ، شبیر سیال سمیت پارٹی کے دیگر رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے ۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ ملک کا نہیں بلکہ منی لانڈرنگ ، کرپشن کرنے والوں اور قبضہ مافیا کا بیڑہ غرق ہو اہے اور ان کی چیخیں پورے ملک میں سنائی دے رہی ہیں ۔

ہماری حکومت میں29ارب ڈالر جائز طریقے سے پاکستان آئے ہیں اور انشا اللہ اس سال 33سے34ارب ڈالر آئیں گے جبکہ ماضی میں منی لانڈرنگ کا بازا ر گرم تھا ۔ ماضی میں سبسڈی اپنے دوستوں اور امیر طبقات کو دی جاتی تھی لیکن اب پہلی بار ہوا ہے کہ سبسڈی صحیح حقداروں تک پہنچ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو پارٹی مضبوط ہو گی اس کا امیدوار 133میں کامیابی حاصل کرے گا ، ووٹ پارٹی کا ہوتا ہے اورپاکستان تحریک انصاف کا اس حلقے میں ووٹ بینک بڑھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2023ء تک کیپسٹی چارجز کی مد میں 2500 ارب روپے دینے ہیں ،(ن) لیگ والے بتائیں بجلی کے مہنگے معاہدے اور اس طرز کے کس کے دور میں ہوئے ہیں ، اگر موٹر وے پر 10فیصد سالانہ ٹیکس بڑھتا ہے تو اس کا معاہدہ کس نے کیا ہے اس لئے ” شاباش ” بھی نواز شریف کو ملنی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ این اے 133میں 1985ء سے کام نہیں ہوئے اور اس حلقے کے لوگ نظر انداز ہوئے ہیں ، ہمارے دور حکومت میں لوگوں کی محرومیاں دور ہوئی ہیں اور ہم پر اعتماد ہیں کہ اس حلقے سے واضح مارجن سے کامیابی حاصل کرینگے۔ جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ ہماری حکومت احساس کارڈ کے ذریعے غریبوں کو سستا آٹا، گھی اور دالیں دے گی،شہباز شریف نے جب پرویز الٰہی سے حکومت لی تو آٹا 19 روپے کلو تھااورجب ہمیں دی تو آٹا38 روپے کلو تھا،ہم عام عوام کو 55 روپے اور غریب کو 43 روپے فی کلو آٹا دیں گے۔

کرونا کے دوران ہماری حکومت نے 1.5 کروڑ گھرانوں کو بغیر کسی پرچی اور سفارش کے خاموشی سے 150 ارب روپے پہنچائے،کمپنیوں کو ملازمین کی 3 ماہ کی تنخواہ دینے کے لیے بلاسود قرض دیا، شرط صرف یہ تھی کہ کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا ،اس سال 15 دسمبر تک پورے پنجاب بشمول این اے 133 میں ہیلتھ کارڈ ہر شہری کے پاس ہوگا جس سے سالانہ 7 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج ممکن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں