چھیوشی میگزین 48

“تائیوان کی علیحدگی” کا مطلب جنگ ہے، چین کی ریاستی کونسل کا دفتر برائے امورِ تائیوان

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) میڈیا رپورٹس کے مطابق، تائیوان ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی انتظامیہ کے کچھ قانون سازوں نے تائیوان کے موجودہ “آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان لوگوں کے تعلقات کے ضوابط ” میں ترمیم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں آبنائے تائیوان کے تعلقات کو “تائیوان اور عوامی جمہوریہ چین” کے تعلقات کے طور پر بیان کیا جائےگا، اور اصل متن سے “قومی وحدت سے پہلے” کے جملے کو حذف کیاجائےگا۔

4 جنوری کو، چین کی ریاستی کونسل کےدفتر برائے امورِ تائیوان کے ترجمان چھن بن حوا نے اس حوالے سے کہا کہ یہ تجویز اس تاریخی اور قانونی حقیقت کو کھلم کھلا چیلنج کرتی ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے، دنیا میں صرف ایک چین ہے اور چائنیز مین لینڈ اور تائیوان دونوں ایک ہی چین کے حصے ہیں۔ تائیوان انتظامیہ کی مذکورہ تجویز آبنائے تائیوان کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

اس سے پوری طرح ظاہر ہوتا ہے کہ لائی چھینگ ڈہ انتظامیہ اور ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی “امن کو تباہ کرنے والے”، “بحران پیدا کرنے والے” اور “جنگ اکسانے والے” ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ “تائیوان کی علیحدگی” کا مطلب جنگ ہے۔ ہمارے پاس “تائیوان کی قانونی طور پر علیحدگی” کی کسی بھی قسم کی سازش کو کچلنے کے لیےپورا اعتماد اور مکمل صلاحیت موجود ہے۔ اگر “تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں” سرخ لکیر عبور کرتی ہیں، تو ہم یقیناً انسداد علیحدگی کے قانون کے مطابق ان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں