کاٹن مارکیٹ 133

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ کے زیر اثر مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھائو میں تیزی کا تسلسل جاری، اسپاٹ ریٹ میں فی من 900روپے کا اضافہ

کراچی(ر پورٹنگ آن لائن)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران تیزی کا تسلسل جاری رہے، روئی کا بھائونیویارک کاٹن مارکیٹ کے وعدے کے بھائومیں غیر معمولی اضافہ کے زیر اثر غیر معمولی اضافہ جاری رہا پورے ہفتہ کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا عنصر غالب رہا اسی طرح اعلی کوالٹی کی روئی کا بھائو سیزن میں تھوڑے عرصے کے دوران دوسری بار 14500 روپے کی 11 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔اسی طرح پھٹی کے بھائو میں بھی اضافہ کا رجحان رہا روئی کا بھائو اونچا ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز نے احتیاط اختیار کرلی تھی جو ملز ہفتہ کے آغاز کے تین روز اونچی جانے والی مارکیٹ کا ساتھ دیتے رہے جمعرات سے وہ محتاط خریداری کرنے لگے جس کے باعث کچھ جنرز نے مارکیٹ کا رخ بھانپ کر روئی فروخت کرنے لگے جس کے باعث روئی مزید اونچے داموں جانے سے رک سی گئی ۔

اس وقت ہماری مقامی مارکیٹ میں روئی کا بھائو تقریبا 14500 روپے کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا یہ دوسری بار ہے کہ روئی کا بھائو فی من 14500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے۔ اس وقت کئی ٹیکسٹائل ملز اور جنرز شدید بحرانی کیفیت میں آگئے تھے اور کئی ملز اور جننگ فیکٹریاں دیوالیہ ہوگئی تھی اور کئی نصیب دار جنرز اور ٹیکسٹائل ملز کو غیر معمولی فائدہ ہوا تھا۔اس وقت بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کا بھائو مقامی کاٹن کے بھا سے زیادہ ہے علاوہ ازیں روپے کے نسبت ڈالر کا بھائو بے تحاشہ بڑھ کر 172 تا 173 روپے پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث روئی کی درآمد مہنگی ہوگئی ہے دوسری جانب کنٹینرز اور شپمنٹ پہنچ سے باہر ہوگئی ہے اور ڈیلیوری میں بھی غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس وقت روئی کا بھائو زیادہ ہوگیا ہے جبکہ ان بھائو پر یارن فروخت کرنا مشکل ہورہا ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھائو کوالٹی کے حساب سے فی من 12800 تا 14300 روپے، پھٹی کا بھائو فی 40 کلو 4800 تا 6100 روپے،بنولہ کا بھائو فی من 1450 تا 1800 روپے۔

صوبہ پنجاب میں روئی کا بھائو فی من 13800 تا 14500 روپے ،پھٹی کا بھائو فی 40 کلو 5500 تا 6400 روپے،بنولہ کا بھائو فی من 1500 تا 1850 روپے صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھائو فی من 13800 تا 14200 روپے،پھٹی کا بھائو فی 40 کلو 5800 تا 6800 روپے بنولہ کا بھائو فی من 1600 تا 1900 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 900 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 14100 روپے کے بھائو پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا عنصر غالب رہا نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھائوبڑھ کر 11 سالوں کی انچی سطح پر فی پانڈ 1 ڈالر 7 امریکن سینٹ ہوگیا جو 12-2011 کی سیزن میں چین کے روئی کی بے تحاشہ خریداری کے باعث شاید نیویارک کی تاریخ کی ریکارڈ بلند ترین سطح فی پائونڈ 2 ڈالر 26 امریکن سینٹ پر پہنچ گیا تھا اس کے بعد ابھی رواں سیزن میں فی پائونڈ 1 ڈالر 7 امریکن سینٹ کی انچی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ کے مطابق برآمد 5 لاکھ 71 ہزار 400 گانٹھیں گزشتہ ہفتہ کے نسبت 65 فیصد زیادہ ہوئی اس مرتبہ بھی چین نے 4 لاکھ 18 ہزار 600 گانٹھیں خریدی ہے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور چین کے مابین تصفیہ ہوگیا ہے چین امریکا سے مزید روئی درآمد کرتا رہے گا۔

برازیل، وسطی ایشیا، ارجنٹینا اور چین وغیرہ میں روئی کے بھائو میں مجموعی طور پر تیزی برقرار رہی بھارت میں پاس پیدا کرنے والے علاقوں میں خصوصی طور پر گجرات میں غیرمعمولی بارشوں کی وجہ سے کپاس کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ بتایا جاتا ہے جس کے باعث بھارت میں بھی روئی کے بھائو میں تیزی کا رجحان ہے۔ WASDE نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سال دنیا میں روئی کی پیداوار کی نسبت ہپت زیادہ ہوگی جس کے باعث روئی کے بھا میں مجموعی طور پر تیزی کا عنصر غالب رہے گا۔دریں اثنااپٹمااور ٹیکسٹائل مصنوعات سیکٹر کے درمیان کاٹن یارن کی برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کے متعلق سرد جنگ جاری ہے۔ ٹیکسٹائل مصنوعات سیکٹر اپنی دلیل میں کہہ رہی ہے کہ یارن برآمد ہوجانے کی وجہ سے انہیں مناسب بھا پر کاٹن یارن نہیں مل رہی جس کے باعث کاٹن یارن کی برآمد پر ڈیوٹی عائد کی جائے جبکہ اپٹمااس کی مخالفت کررہی ہے ان کا موقف ہے کہ مقامی مارکیٹ میں وافر مقدار میں کاٹن یارن دستیاب ہے۔

پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر جی ایم ای اے)نے دنیا بھر سے روئی اور کاٹن یارن کی ڈیوٹی فری درآمد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جب تک کہ ملک خام مال میں خود کفیل نہ ہو جائے۔پی آر جی ایم ای اے کے نو منتخب ریجنل چیئرمین شیخ لقمان امین نے کہا کہ پاکستان مصنوعات کی تنوع کی کمی اور خام مال تک محدود رسائی کی وجہ سے اپنی پوری برآمدی صلاحیت حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاٹن یارن کی درآمد پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیوں کو طویل مدتی بنیادوں پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ قیمتوں کی مسابقت اور مصنوعات کی تنوع کو حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی(ای سی سی)نے رواں سال اپریل میں کاٹن یارن کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی تین ماہ کی مدت کے لیے واپس لینے کا اعلان کیا ہے تاکہ ویلیو ایڈڈ ملبوسات کی صنعت کو ہموار سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کاٹن یارن کی درآمد پر دسمبر 2020 میں پانچ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی واپس لینے کا اقدام ، اور پھر اپریل 2021 میں کسٹم ڈیوٹی کو ہٹانے سے ملبوسات کے شعبے کو بہت مدد ملی اور ملک کے معاشی استحکام میں مدد ملی ، جس کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ کپاس کی قلت کے درمیان جون 2021 کے بعد ریلیف واپس لے لیا گیا ہے ، توقع ہے کہ برآمدی نمو شدید متاثر ہوگی جس سے کسی بھی قیمت پر گریز کیا جانا چاہیے۔پی آر جی ایم ای اے کے چیف کوآرڈی نیٹر اعجاز کھوکھر نے وزیر اعظم کے مشیر تجارت اور سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود سے اپیل کی کہ وہ پی آر جی ایم ای اے کا یہ مطالبہ ایک بار پھر ای سی سی کے سامنے رکھیں تاکہ دنیا بھر سے کپاس اور سوتی یارن کی ٹیکس اور ڈیوٹی فری درآمد جاری رہے۔ اب بھی برقرار ہے اور برآمد کنندگان فی الحال خام مال کی کمی کی وجہ سے غیر ملکی آرڈر بک نہیں کر رہے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب برآمد کنندگان کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے جب کہ سمندری فریٹ چارجز میں 700 فیصد اضافے اور روپے ڈالر کے تبادلے کی شرح میں غیر یقینی صورتحال ، ڈیوٹی فری خام مال ملبوسات کے شعبے کو کچھ کشن فراہم کرے گا صنعت کے خام مال کی کمی ، انہوں نے مشاہدہ کیا۔پی آرجی ایم ای اے اب بھی سوچتا ہے کہ خام مال کی قلت کا اصل حل زمینی راستے سے درآمد کو کھولنے میں ہے ، کیونکہ سمندر کے راستے کاٹن یارن کی درآمد کبھی بھی زمینی راستے سے انتہائی کم لاگت والے سوت کا متبادل نہیں بن سکتی ، خاص طور پر مال کی بھاری اضافے کے تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ شپنگ لائنوں کی شرحوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔

پی آر جی ایم ای اے کے ریجنل چیئرمین نے حکومت سے کہا کہ سوت کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں سابقہ نرمی صرف تین ماہ تک محدود نہیں ہونی چاہیے تھی ، بلکہ اسے اس وقت تک جاری رکھنا چاہیے تھا جب تک کہ ملک ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کی 10 ملین کاٹن بیلز کی مانگ کو پورا کرنے کے قابل نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں