ترجمان دفترخارجہ 35

بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات مسترد ،بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے،ترجمان دفترخارجہ

اسلا م آباد(رپورٹنگ آن لائن)دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پاک فضائیہ کے دنیا میں کسی بھی مسلح تصادم میں شرکت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں ، قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو بھی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا اور کہا کہ بھارت کو پاکستان کو لیکچر دینے کی بجائے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے، اور اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے،بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے ، شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔

بھارت پاکستان کے خلاف جارحیت پرحقائق کو نہیں چھپا سکتا۔ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں خبر رساں ادارے رائٹرز کی سعودی عرب کو جے ایف 17 طیاروں کی فروخت سے متعلق خبر پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تعاون موجود ہے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں ہے، کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں ہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں۔طاہر اندرابی نے کہا کہ لگسمبرگ میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا دیا گیا بیان بھارتی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

پاکستان بھارتی وزیر خارجہ کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے، بھارتی وزیر خارجہ کے الزامات گمراہ کن ہیں، بھارت ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ا نہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو پاکستان کو لیکچر دینے کی بجائے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے، اور اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس کے الزامات اس کے امن دشمن اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت خطے میں امن کا مسلسل خلل ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے، بھارت نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی۔بھارت کا دہشتگردی پر من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت پر حقائق کو نہیں چھپا سکتا۔

کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہلی میں فیض الہی مسجد اور اس سے ملحقہ جائیدادوں کا انہدام بھارت میں جاری مسلم کش مہم کا حصہ ہے، جو 1992 میں بابری مسجد کے انہدام اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز ہندوتوا مہم بدستور جاری ہے۔انہوں نے انڈس واٹر ٹریٹی کی عالمی سطح پر بحالی اور سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی کی ناکامی پر بھی زور دیا اور کہا کہ جہلم یا نیلم دریا پر بھارت کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ جموں و کشمیر سے متعلق یوم حق خودارادیت منایا گیا اور وہاں ہزاروں سیاسی رہنما جیلوں میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانچ اگست 2019 سے کشمیری آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ بھی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورے کے بعد بیانات جاری کیے اور بنگلہ دیش میکانزم کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے سی پیک کے منصوبوں کو مزید ہم آہنگ کرنے اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کے فروغ پر بھی زور دیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے چین کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کیا اور چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کو سراہا۔ اسحاق ڈار نے پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات میں شرکت کی اور ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کی قومی وحدت کے حصول کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور کشمیری تنازعہ کو تاریخی مسئلہ قرار دیتا ہے۔ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں پاک فضائیہ کے کردار کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ دنیا میں کہیں بھی مسلح تصادم میں شریک نہیں ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں، افغان قیادت بیانات کے ساتھ قابل تصدیق،ٹھوس اورعملی ضمانتوں کے منتظر ہیں۔انہوں نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان کسی بیرونی عناصر کی طرف سے طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہے اور افغان طالبان رجیم سے قابل تصدیق تحریری یقین دہانی کی ضرورت ہے تاکہ افغان سرزمین دہشت گردی میں استعمال نہ ہو اور پاک افغان تعلقات کی نئی بنیاد رکھی جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ سہ فریقی تعاون کا مقصد خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے جبکہ اعلامیے میں اس تعاون کے تحت نئے نتائج حاصل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔انہوں نے ایران میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کی مخالفت کرتا ہے، ہم کسی بھی بیرونی عناصر کی طرف سے طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں۔

ترجمان نے صومالی لینڈ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے صومالی لینڈ کی غیر قانونی ریاست کی مخالفت کی ہے، یہ برادر ملک صومالیہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق سیکرٹریز خارجہ اور سفیروں سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں، غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شرکت پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا، اور امریکی صدر ٹرمپ کو مثبت کردار پر نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں