اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت میں زیر سماعت بھارتی قیدیوں کی رہائی سے متعلق بھارتی ہائی کمیشن کی درخواست پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے رپورٹ جمع کرادی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھرنے رپورٹ عدالت پیش کرتے ہوئے بتایاکہ پاکستان نے جاسوسی اور دہشت گردی میں ملوث مزید دو بھارتی قیدیوں کو بھارت واپس بھیج دیا ہے، ایک بھارتی قیدی کی سیکورٹی کلئیرنس اور اس کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مزید کارروائی درکار ہے
،چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسارکیاکہ بھارتی قیدیوں کا کیا ہوا ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ 5 قیدیوں کو 26 اکتوبر کو بھیج چکے،چیف جسٹس نے کہاکہ جو قیدی رہ گئے انکا بتادیں، 5 تو پہلے گئے تھے،ان قیدیوں کو ملٹری کورٹس سے سزا ہوئی اور وہ سزا مکمل کرچکے، کس قانون کے تحت آپ انہیں رکھ سکتے ہیں جب انکی سزا مکمل ہوگئی
،قانون طور پر عدالت کو مطمئن کریں کہ سزا مکمل ہونے پر کسی قیدی کو کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں؟ عدالت نےایک بھارتی قیدی کی رہائی کی درخواست پر آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلیے اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعاپر عدالت نے ایک بھارتی قیدی کی درخواست کلبھوشن کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر بھارتی ہائی کمیشن اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی۔