شہبازاکمل جندران۔۔
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سلطان تنویر احمد نے آج جونئیر افسروں کو سینئر عہدوں پر تعینات کرنے کے قانون کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی۔
شہری تنویر سرور نے اپنے وکیل شہبازاکمل جندران اور ندیم سرور کے توسط سے دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ
The Punjab Civil Servants (Amendment) Ordinance 2023
عدالت عالیہ کے فیصلے، آئین اور قانون سے متصادم یے۔
رٹ پٹیشن میں بیان کیا گیا یے کہ جونئیر افسروں کو سینئر عہدوں پر OPS کا لفظ استعمال کرتے ہوئے تعینات کیا جاتا ہے۔جو کہ خلاف قانون اور خلاف آئین ہے اس پر لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ نے 9 اگست 2023 کو فیصلہ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو پابند بنایا کہ وہ مقدمہ میں زیر بحث 183 جونئیر افسروں کو عہدوں سے ہٹا تے ہوئے ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کریں۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ OPS کا لفظ ملک میں رائج قوانین کے لئے اجنبی ہے۔اور آئیندہ تمام تر پوسٹس سول سرونٹس رولز کے رول 10 اے اور 10 بی کے تحت کی جائیں۔

فیصلے کے ایک ماہ بعد 9 ستمبر کو عدالت میں عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی جگہ پنجاب حکومت نےپنجاب سول سرونٹس ( ترمیمی) آرڈیننس 2023 نافذ کردیا۔اور اس قانونی ترمیم کے تحت قرار دیا گیا کہ کسی بھی افسر کو اس کے متعلقہ یا بڑے عہدے پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔

9ستمبر 2023 کو نافذ ہونے والے اس آرڈیننس کو عدالتی فیصلے اور ملکی آئین و قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے چیلنج کر دیا گیا یے۔
جہاں آج اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پنجاب حکومت سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیئے ہیں۔









