لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ 15 جنوری کو بلدیاتی ایکٹ کے کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، یہ عوامی ریفرنڈم 15 سے 18 جنوری تک لاہور سمیت پنجاب بھر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں ہر سیاسی جماعت کے کارکنان، سول سوسائٹی، وکلا، طلبہ، تاجر برادری اور عام شہری بلا تفریق بھرپور شرکت کریں گے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر بلدیاتی ایکٹ کے خلاف 15 تا 18 جنوری منعقد ہونے والے عوامی ریفرنڈم کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی اور ضلعی ذمہ داران نے شرکت کی اور ریفرنڈم کے انتظامی، تنظیمی اور عوامی رابطہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بلدیاتی ایکٹ کا موجودہ قانون عوام کے حقِ نمائندگی پر کھلا ڈاکہ ہے۔
یہ قانون مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مکمل طور پر مفلوج کرنے کی سازش ہے۔ جماعت اسلامی اس عوام دشمن قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور جب تک حکومت اس متنازعہ قانون کو سب کے لیے قابل قبول نہیں بناتی اور اس میں ضروری ترامیم نہیں کرتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکس بڑی تعداد میں تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ہر اہم چوک، چوراہے، بازار اور مصروف عوامی مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آسانی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں علیحدہ پولنگ پوائنٹس اور رضاکار خواتین کی خدمات شامل ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ یہ ریفرنڈم کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی اور مقامی جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر اس عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کریں اور حکومت کو واضح پیغام دیں کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف مسلط کیے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، بااختیار بلدیاتی نظام اور حقیقی جمہوریت کے قیام تک اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔









