لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ پنجاب کے تمام شہروں میں بسنت تہوار منانے کی اجازت سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے معاملہ چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دیا اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے کر ساٹھ روز کے اندر فیصلہ کریں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے شہری خاتون اشبا کامران کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا ۔ درخواست گزار خاتون اشبا کامران خود بھی عدالت میں موجود تھیں جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب انوار حسین پیش ہوئے ۔
عدالت نے ہدایت کی چیف سیکرٹری پنجاب اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیں اور ساٹھ روز کے اندر اس بارے میں فیصلہ کریں۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ اگر لاہور شہر میں بسنت تہوار منانے کی اجازت دی جاتی ہے تو دیگر اضلاع کو اس اجازت سے محروم رکھنا کہیں امتیازی سلوک کے زمرے میں تو نہیں آتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرتے وقت آئین کے آرٹیکل 25اور آرٹیکل 4کو مدنظر رکھا جائے تاکہ تمام شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق برابری اور منصفانہ سلوک کو یقینی بنایا جا سکے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل درخواست گزار خاتون اشبا کامران کو بھی سنا جائے ۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ چیف سیکرٹری کے فیصلے کی رپورٹ دو ماہ کے اندر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل ہائیکورٹ میں جمع کروائی جائے ۔
درخواست گزار خاتون اشبا کامران نے اپنی درخواست میں مقف اختیار کیا تھا کہ حکومت پنجاب نے بسنت منانے کے متعلق قانون بنایا لیکن صرف لاہوریوں کو پتنگ بازی کی اجازت دی گئی جبکہ پنجاب کے دیگر شہریوں کو اس سے محروم رکھا گیا ، اسے صرف لاہور تک محدود رکھنے کے بجائے پورے صوبہ پنجاب میں یکساں طور پر منانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ درخواست میں صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا تھا۔









