اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکیل سلمان صفدر کو ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالتِ زار اور دستیاب سہولتوں سے متعلق تحریری رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیدیا۔
سپریم کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔عدالت نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالتِ زار اور دستیاب سہولتوں سے متعلق تحریری رپورٹ جمع کرائیں۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگست 2023ء کے حکم نامے کے تحت جو رپورٹ تھی اس وقت بانی پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے، اس لیے موجودہ لِونگ کنڈیشن پر رپورٹ منگوانا مناسب ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سلمان صفدر بطور فرینڈ آف دی کورٹ اڈیالہ جیل جائیں اور انہیں بانء پی ٹی آئی کی بیرک تک رسائی دی جائے تاکہ وہ تحریری جواب دے سکیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ (آج )بدھ تک تحریری رپورٹ جمع کرائی جائے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے لطیف کھوسہ کو بات کرنے سے روک دیا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 24 اگست 2023ء کے حکم نامے کی روشنی میں تحریری جواب چیمبر میں جمع کرا دیا گیا تھا۔ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی اس وقت اٹک جیل میں تھے جب آرڈر دیا گیا تھا اور 28 اگست 2023ء کو تحریری رپورٹ جمع کرا دی گئی تھی، جس کے ساتھ 5 تا 18 اگست کی میڈیکل رپورٹ بھی شامل تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 24 اگست 2023ء کے حکم نامے کے بعد کوئی ایسا آرڈر ریکارڈ پر نہیں جس پر سپریم کورٹ نے اظہارِ اطمینان کیا ہو۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔









