لاہور ہائی کورٹ 31

بابر اعظم کیخلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم بابر اعظم کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا،عدالت عالیہ نے کرکٹر بابر اعظم کی جسٹس آف پیس کے اندراج مقدمہ کی درخواست منظور کرلی ۔جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کرکٹر بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کی ، کرکٹر بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خاتون حمیزہ مختار اس سے قبل بھی 2018ء میں کرکٹر بابر اعظم کے خلاف اسی نوعیت کی بے بنیاد درخواست دائر کر چکی ہیں۔

جو پہلے واپس لے لی گئی تھی ، بابر اعظم کو 2018ء سے 2020ء کے دوران کرکٹ کے میدان میں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی، جس کے بعد خاتون کی جانب سے انہیں 15کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا گیا۔ بیرسٹر حارث عظمت کے مطابق خاتون نے الزام لگایا کہ بابر اعظم نے شادی کا جھانسہ دے کر انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا، اور نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر 15کروڑ روپے ادا نہ کیے گئے تو دوبارہ کیس دائر کیا جائے گا۔بیرسٹر حارث عظمت کے مطابق بابر اعظم کی جانب سے مطالبہ مسترد کیے جانے کے بعد خاتون نے دوبارہ جسٹس آف پیس کے پاس اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی، جس پر ایڈیشنل سیشن جج، جسٹس آف پیس نے بابر اعظم کے خلاف ایف آئی اے اور پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل زاہد عزیز بھٹہ جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خالدہ پروین پیش ہوئیں۔ سرکاری وکلاء اور درخواست گزار خاتون کے وکیل نے بابر اعظم کی درخواست کی مخالفت کی۔تاہم عدالت کو مطمئن نہ کیا جا سکا، جس پر لاہور ہائیکورٹ نے بابر اعظم کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج، جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں