ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 408

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے دو برسوں میں گاڑیوں کے کاغذات کی سکیننگ پرکمپنی کو کتنی ادائیگی کی۔جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

شہباز اکمل جندران۔۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے اے ہیمسن نامی پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ ہر طرح کی کمرشل ، نان کمرشل اور چھوٹی بڑی گاڑیوں کی دستاویزات کو سکین کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
30 مئی 2018 کو ہونے والے اس معاہدے کے تحت ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر میں گاڑیوں کی رجسٹریشن ، ٹرانسفر اور ڈپلیکیٹ کے وقت دستاویزات کو سکین کیا جاتا ہے۔اور سکیننگ کا یہ عمل اے ہیمسن نامی پرائیویٹ کمپنی کرتی ہے۔جس کے جواب میں ۔مذکورہ کمپنی فی پیج 15 روپے 50 پیسے چارجز وصول کرتی ہے۔

محکمے کے اعدادو شمار اور اندازے کے مطابق تین برسوں کے دوران گاڑیوں کی 48لاکھ فائلیں سکین کی جانا تھیں۔ جبکہ ہر فائل میں 5 تا 10 صفحات پر مشتمل دستاویزات ہوتی ہیں۔
 گاڑیوں
تاہم محکمے کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔اور اے ہیمسن نامی پرائیویٹ کمپنی کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔بتایا گیا ہے کہ کمپنی دسمبر 2018 سے نومبر 2020 تک دو برسوں کے دوران 55 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے مجموعی طور پر 8 کروڑ 10 لاکھ 76 ہزار کاغذات کی سکیننگ کرچکی ہے۔جس کے عوض محکمے نے کمپنی کو اب تک ایک ارب25 کروڑ، 66 لاکھ،83 ہزار 379 روپے ادا کیئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اے ہیمسن سے 3 سال کا معاہدہ کی گیا ہے۔ جو مئی 2021میں تکمیل کو پہنچے گا۔اور تب تک کمپنی مزید 70 کروڑ روپے تک کما سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کو نوازا گیا ہے۔15 روپے فی صفحہ سکیننگ کے چارجز بہت زیادہ ہیں۔

یہ بھی علم میں آیا ہے کہ معاہدے کے وقت لاہور میں روزانہ 15 ہزار دستاویزات کی سکیننگ کا اندازہ لگایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں