ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 204

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں ایک گاڑی کی دستاویزات پرتین گاڑیوں کی رجسٹریشن کا سکینڈل سامنے آگیا۔گاڑیاں اسلام آباد، لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں رجسٹرڈ کی گئیں۔

رپورٹنگ آن لائن۔

تفصیلات کے مطابق ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں ان دنوں جعلی اور بوگس دستاویزات کی بنیاد پر یکے بعد دیگر گاڑیوں کی رجسٹریشن کے سکینڈل سامنے آنے لگے ہیں۔محکمہ ایکسائز پنجاب کے لاہور سمیت مختلف شہروں میں مخصوص ملازمین،بوگس دستاویزات پر چوری اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا دھندہ کرنے والے جعلسا مافیا کے ساتھ مل کریہ کام کرتے ہیں اور سادہ لوح شہریوں کو بوگس دستایزات کی حامل گاڑیاں مہنگے داموں بیچ دی جاتی ہیں۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
علم میں آیا ہے اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کی دستایزات سے مشابہہ بوگس دستاویزات تیار کرکے چوری اور سمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کروائی جاتی ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہونے والی ہنڈا سوک گاڑی نمبر BEK 163عبدالمجیدخان ولد عزیز اللہ خان کے نام پر 30ستمبر 2024کو اسلام آباد میں رجسرڈ ہوئی۔اورگاڑی کا چیسز نمبر NFBFE1651RR009250تھاتاہم 8فروری 2025کو یہی گاڑی راجن پور،ڈی جی خان میں اسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہوئی اور بعدازاں 11فروری کو ڈیرہ غازی خان سردار میر گوہرام خان قیصرانی کے نام ٹرانسفر کردی گئی۔اور مبینہ طورپر قیصرانی سردار کو دھوکے میں رکھا گیا۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
اور28مارچ 2025کو موٹر رجسٹریشن اتھارٹی راجن پوررطارق جاوید اور محمد صادق کی ہدایات پر ای ٹی آئی راو عطااللہ اور راو افضال عظیم نے گاڑی کی رجسٹریشن معطل کردی اور ریمارکس دیتے ہوئے لکھا کہ گاڑی کی دستاویزات بوگس ہیں۔
یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہ ہوا بلکہ یہی گاڑی ایکبار پھر اسی چیسز نمبر کے تحت پنجاب میں ہی رجسٹریشن نمبر AMD 202کے تحت رجسٹرڈ کی گئی جو بعدازاں کینسل کردی گئی ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
تینوں شہروں میں رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کے چیسز نمبر ایک ہی تھے۔ صورتحال سامنے آنے پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب نے صورتحال سامنے آنے پر معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں