ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 381

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں اپوائنٹمنٹ سسٹم کا کمال۔اوپن ٹرانسفرڈیڈکھلے عام بازاروں میں بکنے لگی

شہباز اکمل جندران۔۔۔

کسی بھی گاڑی کی ملکیت تبدیل کرنے کے لئے ٹرانسفر ڈیڈ (اشٹام پیپر)لازمی ہوتا ہے۔جو کہ صرف ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر سے ہی مل سکتی ہے۔
اشٹام پیپر
تاہم ڈیپارٹمنٹ کو لاہور سمیت صوبے میں گاڑیوں کی ٹرانزیکشن میں استعمال ہونے والی ان ٹرانسفر ڈیڈزکے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ٹرانسفر ڈیڈز چوری،جعل سازی اور گاڑیوں کی غیر قانونی فروخت میں استمعال ہوتی ہیں۔ جس پر قابو پانے میں محکمہ ناکام ہوچکا ہے۔

زرائع کے مطابق اپوائنمنٹ مینجمنٹ سسٹم کے باعث عام آدمی کو ٹرانسفر ڈیڈ کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔
 گاڑیوں
جس کے نتیجے میں جعلی ،ان رجسٹرڈ اور اوپن ٹرانسفر ڈیڈ کی بازاروں میں کھلے عام فروخت جاری ہے۔فروخت کا یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے۔ بلکہ کسی اندراج کے بغیر فروخت ہونے والی یہ بلینک ٹرانسفر ڈیڈز گاڑیوں کی خریدوفروخت میں جعلسازی کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہیں۔

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے ٹرانسفر ڈیڈ کی مالیت تین سو روپے مقرر کررکھی ہے۔تاہم بازار میں بکنے والی اوپن ٹرانسفر ڈیڈز بلیک میں دو سے تین ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔
 گاڑیوں

دوسری طرف ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں ٹرانسفر ڈیڈز کی تیاری،سٹاک اور فروخت کا اختیار ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کو دے رکھا ہے۔جنہوں نے اس حوالے سے آڈٹ بھی شروع کروا رکھا ہے۔لیکن آڈٹ کے باوجود ایڈیشنل ڈی جی کو اوپن ٹرانسفر ڈیڈز کی دفاتر کے باہر کھلے عام فروخت پر قابو پانے میں ناکامیوں سامنا ہے

اس سلسلے میں گفتگو کے لیئے محکمے کے ایڈیشنل ڈی جی راو شکیل الرحمن سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے دلچسپ ظاہر نہ کی۔
 غیر قانونی
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹرانسفر ڈیڈز کے بڑے استعمال کنندگان میں ڈی وی آر سسٹم کے تحت قانونی طورپر گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانزکشن کرنے والے بعض ایجنٹ بھی غیر قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اوپن ٹرانسفر ڈیڈز کی خریدوفروخت میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں