لاہورہائیکورٹ 730

ایکسائز حکام جواب دیں بائیومیٹرک کی آڑ میں گاڑی کی انسپکشن اور فائل چیکنگ کیسے ختم کردی۔ہائیکورٹ

تنویر سرور۔۔۔

لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی نے قرار دیاہے کہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب بتائے کہ 10بجنوری 2022 کو صوبے میں بائیومیٹرک نظام کے نفاذ کے بعد گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن اور گاڑیوں کی فائلوں کی تصدیق کرنا بند کیسے کردی۔

ایڈووکیٹ شہبازاکمل جندران کی درخواست پر عدالت نے صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب، ڈی جی ایکسائز، ڈائیریکٹر موٹرز لاہور اور ایم آر اے لاہور کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی۔

ایکسائز ٹیکسیشن
جس میں موقف اختیار کیا گیاہے سائل نے ایک گاڑی خریدی ہے جس میں بیچنے اور خریدنے والے دونوں افراد کی بائیومیٹرک تصدیق ہوچکی ہے گاڑی کی ٹرانسفر فیس بھی ادا کردی گئی ہے لیکن ایکسائز حکام گاڑی کے کاغذات دیکھ رہے ہیں نہ ہی گاڑی کی فزیکل انسپکشن کررہے جو کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 27 اور سیکشن 32 کی کلاز ون کی خلاف ورزی ہے اور یہی نہیں بلکہ ایکسائز حکام کا یہ عمل سپریم کورٹ آف پاکستان کی ججمنٹ PLD 2020 SC 299 کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جس میں عدالت عظمی نے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایکسائز حکام کو تبدیلی ملکیت کے وقت گاڑی کے کوائف کی چیکنگ کے لئے فزیکل انسپکشن لازمی قرار دی تھی۔

ایکسائز ٹیکسیشن
عدالت نے قرار دیا کہ بائیومیٹرک نظام کے نوٹیفکیشن میں کہیں نہیں لکھا گیا کہ گاڑیوں کی ٹرانسفر،ٹرانزکشن کے وقت گاڑی کی دستاویزات چیک نہیں کی جائینگی یا گاڑی کی فزیکل انسپکشن نہیں کی جائیگی۔

ایسا کرنا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے مقدمہ کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں