ایپسٹین 11

ایپسٹین کیس: امریکی “جمہوریت” اور “قانون کی حکمرانی” کے کھوکھلے دعوؤں کا پردہ فاش

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن) “ایپسٹین کیس انسانی فہم سے ماورا ہے۔ متعلقہ دستاویزات نے مغرب کی اصل حقیقت بے نقاب کر دی ہے اور مغربی اشرافیہ کے مکروہ چہرے کو سامنے لے آئی ہیں۔

“روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف امریکہ میں جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال کا کیس طویل عرصے سے ایک شدید سیاسی نوعیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کیس میں امریکہ ہی نہیں بلکہ یورپ کے بھی متعدد سرکردہ سیاسی و کاروباری شخصیات کے نام سامنے آئے، جس کے باعث عالمی سطح پر شدید منفی ردِعمل پیدا ہوا۔ یہ کیس اور ایپسٹین کی پراسرار موت محض ایک الگ تھلگ عدالتی اسکینڈل نہیں بلکہ یہ امریکی طاقت اور قانونی نظام کے اندرونی، ساختی بگاڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک منظم جنسی جرائم کے نیٹ ورک کی تاریکی نہیں دکھاتا بلکہ اس نظام کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس میں دولت اور طاقت کو انصاف پر فوقیت حاصل ہے۔

قانونی نظام کا ” دوہرا معیار”2008ء میں ایپسٹین کے معافی نامے کو، جسے “صدی کا معافی نامہ” کہا جاتا ہے، امریکی عدالتی نظام میں “دوہرے معیار انصاف” کی واضح مثال ہے۔ ایپسٹین کو کم عمر افراد کو جسم فروشی پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائی گئی، تاہم پراسیکیوٹرز کے ساتھ خفیہ معافی نامے (این پی اے) کے تحت اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا دی گئی، جس میں عملی طور پر محض 8 ماہ جیل کاٹی، وہ بھی اس سہولت کے ساتھ کہ دن کے وقت باہر کام کر سکتا تھا۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن امر یہ تھا کہ اس معاہدے کے تحت اس کے تمام ممکنہ ساتھیوں کو بھی استثنیٰ دیا گیا اور متاثرین کو دانستہ طور پر معاہدے کی تفصیلات سے لاعلم رکھا گیا۔ یہ واقعہ امریکی عدالتی تاریخ میں “امیر اور طاقتور کے لیے خصوصی سودے” کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔ اس کیس نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ امریکی قانون کا ترازو غیر جانبدار نہیں بلکہ دولت اور اثر و رسوخ کے ساتھ جھک جاتا ہے؛ عام شہری کے لیے قانون آہنی دیوار ہے، جب کہ اشرافیہ کے لیے وہ ایک لچکدار دروازہ بن جاتا ہے ، جسے حسبِ ضرورت کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔

طاقت کے نیٹ ورک کی “تاریک ہم آہنگی”
ایپسٹین کی فراہم کردہ خصوصی خدمات سے مستفید ہونے والی مغربی دنیا کی متعدد نمایاں شخصیات کے نام اس کی بدنامِ زمانہ “سیاہ ڈائری” میں درج ہیں۔ یہ دستاویز ایک ایسے طاقت کے جال کی نشاندہی کرتی ہے جو بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ نیٹ ورک محض اتفاقاً وجود میں نہیں آیا بلکہ ایک ساختی پیداوار ہے، جہاں اشرافیہ باہمی تحفظ کے خفیہ رشتوں کے ذریعے کمزور طبقات کو قابلِ سودے، قابلِ استعمال اور قربانی کے لائق شے سمجھتی ہے، اور استحصال کو “مراعات یافتہ ثقافت” کا حصہ بنا دیتی ہے۔

جیل میں پراسرار موت کا “مکمل ڈرامہ”
اگست 2019ء میں مین ہٹن میٹروپولیٹن اصلاحی سینٹر میں ایپسٹین کی موت کو سرکاری طور پر “پھندا لگا کر خودکشی” قرار دیا گیا، تاہم اس کے گرد شکوک و شبہات کی طویل فہرست موجود ہے۔ نگرانی کیمرے ناکارہ قرار پائے، محافظ ڈیوٹی سے غائب تھے، سیل ساتھی کو پراسرار طور پر منتقل کر دیا گیا، گردن کی ہڈی کا غیر معمولی فریکچر سامنے آیا جو عموماً قتل سے منسلک سمجھا جاتا ہے، اور خودکشی کی نگرانی کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود 6 دن بعد نگرانی ختم کر دیا جانا۔یہ سب مل کر ایک بہت ہی “مکمل” مضحکہ خیز ڈرامہ تخلیق کرتے ہیں، جس نے عوام کے نظام پر آخری اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ طاقتور طبقے کے رازوں کو بچانے کے لیے نظام کے اندر موجود خودکار حفاظتی عمل کا نتیجہ تھا۔

میڈیا اور عوامی رائے کا “انتخابی اندھا پن”
اس کیس کی کوریج میں مغربی میڈیا کی رپورٹنگ میں بھی نمایاں تضاد دیکھا گیا۔ طویل عرصے تک اس کیس کو نظرانداز کیا گیا اور صرف اس وقت مختصر توجہ دی گئی جب عدالتی حکم کے تحت دستاویزات منظرِ عام پر آئیں۔ یہ رویہ ایک پوشیدہ ایڈیٹوریل ہاتھ کی طرف اشارہ کرتا ہے، گویا سرچ لائٹ کو جان بوجھ مدھم کر دیا گیا ہو تاکہ کچھ مخصوص حصوں پر روشنی نہ پڑ سکے۔ اس سے مغربی میڈیا کی توجہ کے گراف کا پتہ چلتا ہے، جو اکثر سچائی کی قوت سے نہیں بلکہ طاقت کی کشمکش کے ترنم سے طے ہوتا ہے۔
جمہوری نظام پر اعتماد کا فقدان

ایپسٹین کیس نے درحقیقت مغربی جمہوری نظام پر عوامی اعتماد کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ جب عدلیہ، سیاست اور میڈیا جیسے تین بنیادی ستون بیک وقت کمزور نظر آئیں تو “جمہوریت اور قانون کی حکمرانی” کا بیانیہ شدید دراڑوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں بلکہ مغربی نظام کے بارے میں عالمی سطح پر پائے جانے والے تصورات کے ٹوٹنے کا لمحہ ہے۔ بظاہر شاندار عمارت کے اندرونی ستون دیمک سے کھوکھلے ہو چکے ہیں اور صرف چمکدار بیرونی خول باقی رہ گیا ہے۔یہ کیس گہری جھیل میں پھینکے گئے پتھر کی مانند ہے، جس کی لہروں کے نیچے امریکی معاشرے کی گہری ساختی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ جب طاقت، دولت اور قانون اتحاد قائم کر لیں، تو ” انسانی مساوات ” کا قانونی وعدہ محض ایک کھوکھلا جھوٹ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ کیس وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوگا، بلکہ اس دور کے سب سے چبھتے ہوئے سوال کے طور پر تاریخ میں درج ہوگا: جب کسی نظام کے بنیادی پرزے زنگ آلود ہو جائیں تو کیا محض مرمت اعتماد کی بحالی کے لیے کافی ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب شاید امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی شکوک بھری نگاہوں میں پہلے ہی درج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں