محمد جاوید قصوری 19

ایپسٹین فائلز کے انکشافات کے بعد نام نہاد مہذب مغرب اور امریکہ کا گھناونا چہر ہ بے نقاب ہو گیا ‘جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے ایپسٹین فائلز سے سامنے آنے والے ہوشربا انکشافات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات کے بعد نام نہاد مہذب مغرب اور امریکہ کے اصل گھناونے چہرے سے مکمل طور پر نقاب اتر چکا ہے، انسانی حقوق اور اخلاقیات کا درس دینے والے معاشروں کی اصل حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہو گئی ہے اور ان کے دوہرے معیار بے نقاب ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ہونے والا انسانیت سوز سلوک حیوانیت اور درندگی کی بدترین مثال ہے۔ مغربی دنیا جو خود کو تہذیب و تمدن کا علمبردار قرار دیتی ہے، وہاں طاقتور اور بااثر طبقات کے ہاتھوں معصوم انسانوں کی عزت و حرمت پامال ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاشرے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ ایپسٹین فائلز نے واضح کر دیا ہے کہ مغربی نظام میں انصاف صرف کمزوروں کے لیے ہے جبکہ بااثر لوگ قانون سے بالاتر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام ہی وہ واحد نظام ہے جو انسانیت کی حقیقی عزت، تحفظ اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ مغربی تہذیب نے آزادی کے نام پر اخلاقی قدروں کو تباہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ایسے شرمناک واقعات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی قابل مذمت ہے۔ اگر یہی واقعات کسی مسلم ملک میں پیش آتے تو شور مچا دیا جاتا، مگر مغرب کے معاملے میں سب نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے سابق صدر الخدمت فاؤنڈیشن محمد عبدالشکور کو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا معاون خصوصی مقرر ہونے، رسل خان بابر کو جماعت اسلامی کا ڈپٹی سیکرٹری جنرل ، سابق نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن ڈاکٹر مشتاق مانگٹ کو پاکستان بزنس فورم کا صدر اور وسیم حیدر کو اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب ہونے استقامت کی دعا دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام نو منتخب ذمہ داران کو استقامت، حکمت اور دیانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی اور منظم جماعت ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی وہ واحد سیاسی و دینی جماعت ہے جس میں موروثیت کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا اور نہ ہی یہاں ذاتی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں