کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزرا سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی اور اس حوالے سے پھیلایا جانے والا تاثر بے بنیاد ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کیا ایم کیو ایم کے وزرا نے وفاق میں سکیورٹی لے کر جانی تھی؟ وفاقی وزرا اسلام آباد میں ایک ایک سپاہی کے ساتھ گھومتے ہیں جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے وزرا کو دس، دس سپاہی فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست دفن ہو چکی ہے اور عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔
سانحہ گل پلازہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جس گھر میں افسوس کا ماحول ہوتا ہے لوگ وہاں تعزیت کے لیے آتے ہیں، پروپیگنڈا کرنے نہیں، آج سے شہدا اور متاثرین کے گھروں میں چیکس خود پہنچائے جا رہے ہیں اور جو لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں ان کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ بہت جلد آ جائے گی اور اگر رپورٹ سے اطمینان نہ ہوا تو جوڈیشل کمیشن بھی بنایا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم آزادیٔ صحافت پر یقین رکھتے ہیں، کم عقل لوگوں کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت کہیں نظر نہیں آتی اور انہیں مسلمانوں کے اصل مسائل دکھائی نہیں دیتے۔
ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت نے ہمیشہ منفی سیاست کی ہے اور چیزوں کو بگاڑنے والوں میں شامل رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینا چاہیے، تاہم احتجاج کرنا ہر ایک کا جمہوری حق ہے، احتجاج ضرور کریں، اگر غیر جمہوری انداز اختیار کیا گیا تو حکومت کارروائی کرے گی، ایم کیو ایم نے اپنے قائدِ تحریک کو چھوڑ دیا ہے جو ماضی میں گھنٹوں ویڈیو کالز کے ذریعے شہر میں سوگ کا اعلان کرتے تھے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سوگ کو کامیاب بنانے کے لیے تیس، تیس معصوم مزدوروں کی جانیں لی جاتی تھیں، بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنی سیاست چمکائی، انکوائری رپورٹ آنے سے پہلے سڑکوں پر سیاست چمکا کر ڈرامے کرنے سے گریز کیا جائے، گورنر سندھ قابلِ احترام ہیں اور جو کہنا چاہتے ہیں کہہ سکتے ہیں جبکہ سندھ اسمبلی نے بھی کسی کو احتجاج سے منع نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار سے متعلق گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کسی عمارت کی اجازت نہیں دی اور دستخط دکھانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر حکومت نے ان کے دستخط پیش کر دیے، ڈاکٹر فاروق ستار نے بطور میئر بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا ہے کہ قبر کی مٹی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی اور منفی سیاست شروع کر دی گئی ہے جبکہ بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنا سیاسی مفاد حاصل کیا۔









