اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے 9 جنوری کو کراچی کے دورے کے دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں کراچی پورٹ سے کارگو کی ترسیل کو مؤثر بنانے اور ریلوے نظام کو مزید مضبوط کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کراچی پورٹ اور اس کے اطراف میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ اور کارگو جام کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے سڑکوں کے بجائے ریل کے ذریعے مال برداری کو فروغ دیا جائے۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کارگو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مجموعی کارگو اٹھانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی و بین الاقوامی تجارت کے فروغ میں کراچی پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے،
جس کے پیشِ نظر کراچی پورٹ کی لاجسٹکس کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کے پی ٹی اور پاکستان ریلوے کے درمیان مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔محمد حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان ریلوے کے اہم منصوبے مین لائن ون (ایم ایل ون) کا آغاز جولائی 2026 میں کراچی پورٹ سے کیا جائے گا، جبکہ کے پی ٹی تا پپری 54 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ کارگو کی بلا تعطل ترسیل ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے آئندہ پانچ ماہ کے دوران روزانہ کم از کم چار فریٹ ٹرینیں چلانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس میں بلک کارگو کو ترجیح دی جائے گی۔
اس موقع پر چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) نے کہا کہ کے پی ٹی اپنے اندرونی ریلوے ٹریکس کی اپ گریڈیشن کرے گا اور پاکستان ریلوے کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے کراچی پورٹ سے منسلک ریلوے انفراسٹرکچر کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ریلوے اور پورٹ کے درمیان مربوط اقدامات سے نہ صرف لاجسٹکس لاگت میں کمی آئے گی بلکہ ملکی تجارت، صنعت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔









