ایڈووکیٹ 31

ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری میں ہائیکورٹ بار کے ملوث ہونے کے ریمارکس بے بنیاد قرار

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے بعد عدالتی ریمارکس پر شدید ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاری میں بار کے ملوث ہونے سے متعلق ریمارکس میں کوئی صداقت نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری منظور ججہ نے بیان میں کہا کہ ماضی میں ہائیکورٹ بار کے صدر رہنے والے معزز جج کی جانب سے بار سے متعلق ایسے ریمارکس افسوسناک ہیں اور انہیں اس نوعیت کے تبصرے نہیں کرنے چاہئیں۔منظور ججہ نے کہا کہ بار کے معاملات ہائیکورٹ بار خود احسن انداز میں چلاتی ہے اور ججز کو بار سے متعلق ریمارکس دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس مقصد کے لیے بار کونسلز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کے پاس قلم اور دلیل ہوتی ہے، گن نہیں ہوتی کہ وہ طاقت کے ذریعے بات کریں۔ بار قانون کے مطابق چلتی ہے اور اپنے وکلاء کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے کیس کو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ترجیحی بنیادوں پر مقرر کیا اور جو کیسز سامنے آئے وہ چیف جسٹس نے ہی فکس کیے۔

منظور ججہ کے مطابق دونوں وکلاء دو روز تک اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے آفس میں موجود رہے جبکہ بار کی استدعا پر جسٹس اعظم خان نے انہیں عبوری ضمانت دی اور سیشن کورٹ میں جاری کارروائی پر بھی ریلیف فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ایک پرانے مقدمے میں بھی عبوری ضمانت دی گئی، تاہم عدالتی وقت ختم ہونے اور چیف جسٹس کے جانے کے بعد ایک نامعلوم مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کا کیس مقرر نہ ہو سکا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے دو روز تک ان کی گرفتاری کو روکے رکھا اور گرفتاری کے بعد نہ صرف ہڑتال کی بلکہ سخت مزاحمت بھی کی۔منظور ججہ نے بتایا کہ ہائیکورٹ بار کی اپیل پر ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل بھی شانہ بشانہ کھڑی رہیں، پولیس کا کچہری میں داخلہ بند کیا گیا اور ریلی بھی نکالی گئی۔واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے ملوث ہونے سے متعلق ریمارکس دیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں