ٹیکس 39

ایف بی آر کا ٹیکس محصولات میں 610 ارب کے شارٹ فال پر تشویش کا اظہار

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)ٹیکس ایڈوائزرزایسوسی ایشن نے مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ٹیکس محصولات میں 610 ارب روپے کے شارٹ فال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال کے باعث اس میں مزید اضافے کا امکان ہے ،آئی ایم ایف آئندہ مالی سال میں ٹیکس محصولات کے ہدف میں اضافے سمیت ممکنہ طور پر 400 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کا مطالبہ کر سکتا ہے جس سے معیشت کی سانسیں رک جائیں گی ۔

ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن صدر میاں عبدالغفار اورجنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ ہدف کے حصول میں پہلے ہی بڑے شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ آئندہ سال کے لیے 15.6 ٹریلین روپے کاہدف دئیے جانے کا امکان ہے جوناممکن نظر آتا ہے۔انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف آئندہ سال کے ہدف میں کمی کے حوالے سے لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کا مرحلہ وار سپر ٹیکس کم کرنے کا منصوبہ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے شدید بوجھ میں کچھ ریلیف دینے کی تجویز فی الحال پسِ پشت ڈالی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کے بڑھتے ہوئے بوجھ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی بنا پر کثیر القومی کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں، اور مجموعی طور پر رسمی معیشت، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ، سکڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے، وہیں درآمدات پر انحصار بھی بڑھتا جا رہا ہے، جو برآمدات کے ذریعے معاشی ترقی کے حکومتی دعوں اور پالیسی کے مکمل برعکس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں