لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے مشرقی وسطی اور امریکہ ،اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کو جواز بناکر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ہوشربا اضافہ کر نا قابل فہم ہے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس دبائو کو خود برداشت کرتی ، اپنے اللوں تللوں کو ختم کرتی ، مگر حکومت نے ایسا نہیں کیا ، اور سارا بوجھ براہ راست عوام پر ڈال دیا ہے۔
ہم حکمران کے اس طرز عمل کو مسترد کرتے ہیں ، اس فیصلے سے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کسی نئے عذاب سے کم نہیں، جبکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی کے جھٹکے دے رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش سمیت ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
رہی سہی کسر گھی، کوکنگ آئل اور چاول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پوری کر دی ہے جس کے باعث عام آدمی کے لیے گھر کا بجٹ چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت خود کو عوام کا حقیقی نمائندہ قرار دیتی ہے مگر اس کے فیصلوں سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مسلسل مہنگائی کے نشتر چلائے جا رہے ہیں اور عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہا کہ مزدور، دیہاڑی دار اور تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ لوگوں کی آمدن میں اضافہ نہیں ہو رہا مگر اخراجات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے عام آدمی شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوامی مشکلات کا احساس کرے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مزید کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرے، پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور ٹیکسز میں کمی کرے اور ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر نظام قائم کرے۔









