ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز کو بظاہر مسترد کر دیا ہے اور اس حوالے سے اپنا باضابطہ ردعمل پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران صرف عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کے مکمل اور مستقل خاتمے پر زور دے رہا ہے۔ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وقتی سیزفائر مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک جامع معاہدہ ہی خطے میں پائیدار امن لا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے بھیجے گئے ردعمل میں 10 نکات شامل ہیں، جن میں خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کے قیام، اور عالمی پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم مطالبات شامل ہیں۔
مزید برآں، ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تعمیر نو کو بھی اپنی شرائط کا حصہ بنایا ہے،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی معاہدے میں اپنے معاشی اور سکیورٹی مفادات کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ امریکا عارضی جنگ بندی کے ذریعے فوری کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران طویل المدتی حل کا خواہاں ہے۔









