اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کوبتایاہے کہ ایران سے دوہزارشہریوں اورطلباکوبحفاظت نکال لیاگیاہے ،باقی پاکستانی شہریوں اورطلباکی واپسی کیلئے اقدامات جاری ہے ،مشرق سطیٰ کی صورتحال تشویش ناک ہے،مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران میں پاکستانی طلبا اورشہریوں کوبحفاظت نکالنا ہماری ترجیح ہے ۔
منگل کوڈڈاکٹرنفیسہ شاہ، شازیہ مری اوردیگرکی جانب سے اس حوالہ سے توجہ مبذول نوٹس پروفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کوبتایا کہ مشرق سطیٰ کی صورتحال تشویش ناک ہے،مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران میں پاکستانی طلبا اورشہریوں کوبحفاظت نکالنا ہماری ترجیح ہے ،پاکستانی سفارت خانہ، زاہدان اورمشہد کے مشنز کوہدایات بھی جاری کی گئی تھیں اورمناسب انتظامات بھی کئے گئے تھے، اس وقت تک 2ہزار سے زیادہ طلبا کووہاں سے نکالاجاچکاہے۔انہوں نے کہاکہ تفتان اورعلی رمدان بارڈر کواس مقصدکیلئے استعمال میں لایاجارہاہے،آذربائیجان کے راستے کوبھی استعمال میں لایا جارہاہے۔پاکستانی سفارت خانہ کوسکیورٹی کے تناظرمیں عارضی طورپرمنتقل کیا جاچکا ہے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ ایران پرحملہ کی صورتحال گھمبیرہے۔
پاکستان نے گزشتہ تین ماہ سے سفارت خانہ اورمشنز کوالرٹ کیاتھا، سفارت خانہ اورمشنز نے وٹس ایپ گروپوں اوردیگرذرائع سے بھی پاکستانی طلبا اورشہریوں سے رابطہ رکھاہے۔ڈاکٹرشازیہ مری کے سوال پرانہوں نے کہاکہ ایران میں صورتحال غیرمعمولی ہے ، ہماراسفارت خانہ اورمشنز پاکستانی طلبااورشہریوں سے رابطے میں ہے، سفارت خانہ اورمشنزکو روزانہ 500سے زیادہ کالین موصول ہورہی ہیں۔پاکستانی شہریوں کوتحفظ فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔








